🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 222
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 222
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ , سَمِعَ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَقُولُ: حَضَرْتُ جِنَازَةَ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ وفِي الْجَنَازَةِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، فَجَلَسْتُ بَيْنَهُمَا، فَبَكَى النِّسَاءُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّ بُكَاءَ الْحَيِّ لِلْمَيِّتِ عَذَابٌ لِلْمَيِّتِ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ: صَدَرْنَا مَعَ عُمَرَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ نُزُولٍ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَقَالَ: اذْهَبْ يَا عَبْدَ اللَّهِ، فَانْظُرْ مَنِ الرَّكْبُ ثُمَّ الْحَقْني، قَالَ: فَذَهَبْتُ , ثُمَّ جِئْتُ، فَقُلْتُ: هَذَا صُهَيْبٌ مَوْلَى ابْنِ جُدْعَانَ، فَقَالَ مُرْهُ: فَلْيَلْحَقْنِي، فَلَمَّا قَدِمَا الْمَدِينَةَ لَمْ يَلْبَثُ عُمَرُ أَنْ طُعِنَ، فَجَاءَ صُهَيْبٌ وَهُوَ يَقُولُ: وَا أُخَيَّاهُ وَا صَاحِبَاهُ، فَقَالَ عُمَرُ: مَهٍ يَا صُهَيْبُ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ , إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَقَدْ قَضَى اللَّهُ: وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164" .
ابن ابوملیکہ کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام ابان کے جنازے میں شریک ہوا جنازے میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی تھے ان دونوں حضرات کے درمیان میں بیٹھ گیا۔ خواتین نے رونا شروع کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بولے: زندہ شخص کے میت پر رونے کی وجہ سے میت کو عذاب ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: (ایک مرتبہ) ہم لوگ امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ (مکہ سے) واپس آ رہے تھے، جب ہم بیداء کے مقام پر پہنچے تو وہاں کچھ سوار ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عبداللہ! تم جاؤ اور جا کر دیکھو کہ یہ سوار کون ہیں؟ پھر میرے پاس آؤ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں گیا، میں نے واپس آ کر بتایا کہ وہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ان سے کہو کہ ہمارے ساتھ مل لیں، جب یہ لوگ مدینہ منورہ پہنچے تو کچھ ہی عرصے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ آئے وہ کہہ رہے تھے: ہائے میرا بھائی! ہائے میرا ساتھی! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: رک جاؤ اے صہیب! میت کو زندہ شخص کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو وہ بولیں: اللہ تعالیٰ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: بے شک اللہ تعالیٰ کافر کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے اس کے عذاب میں اضافہ کر دیتا ہے۔ (یعنی عذاب کے ساتھ اسے اپنے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بھی تکلیف ہوتی ہے)۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ دے دیا ہے: «وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى» کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 222]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 1286، 1287، 1288، ومسلم: 929، 930، 932، وابن حبان فى ”صحيحه“: 3135، 3136، 3137، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 295»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن أبي مليكة القرشي، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← عبد الله بن أبي مليكة القرشي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 222 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:222
فائدہ:
میت پر صرف رونا درست ہے، زبان سے چیخ و پکار نہیں ہونی چاہیے۔ وہ رونا مذموم ہے جس میں رونے کے ساتھ زبان کے ساتھ زمانہ جاہلیت کے بول بولے جائیں، یاد رہے انسان کو اپنی زندگی ہی میں اپنے اہل و عیال کو یہ مسئلہ اچھی طرح سمجھا دینا چاہیے کہ جب میں فوت ہوں تو میرے مرنے پر صبر کو لازم پکڑ نا، نیز اس حدیث میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بھی ذکر ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 222]

Musnad al-Humaydi Hadith 222 in Urdu