🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 230
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 230
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمُزَنِيُّ , قَالا: حَدَّثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، فَإِنِ اشْتَجَرُوا، فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ لَهُ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو بھی عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے، تو اس کا نکاح باطل ہو گا، اس کا نکاح باطل ہو گا، اس کا نکاح باطل ہو گا، اگر مرد اس عورت کے ساتھ صحبت کر لیتا ہے، تو عورت کو مہر ملے گا کیونکہ مرد نے اس کی شرمگاہ کو استعمال کیا ہے اور اگر ان لوگوں کے درمیان اختلاف ہو جاتا ہے، تو جس کو کوئی ولی نہ ہو حاکم وقت اس کا ولی ہوتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 230]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، وقد استوفينا تخريجه فى «‏‏‏‏مسند الموصلي» برقم 2508، وفي صحيح ابن حبان برقم 4074، 4075، وفي موارد الظمآن برقم 1248»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سليمان بن موسى القرشي، أبو الربيع، أبو أيوب، أبو هاشم
Newسليمان بن موسى القرشي ← محمد بن شهاب الزهري
صدوق حسن الحديث
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← سليمان بن موسى القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن رجاء المكي، أبو عمران
Newعبد الله بن رجاء المكي ← ابن جريج المكي
ثقة تغير حفظه قليلا
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الله بن رجاء المكي
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 230 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:230
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ولی کے بغیر نکاح باطل ہے۔ آ ج کل عدالتوں میں بغیر ولی کے شادیاں بہت زیادہ ہو رہی ہیں، جبکہ اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ جو نکاح عدالتوں میں بغیر ولی کے ہو رہے ہیں، حقیقت میں وہ نکاح نہیں ہیں، وہ لڑکا لڑ کی ساری عمر بدکاری کریں گے، اور ان کی اولاد حرامی ہوگی۔ ہاں اگر ایسی صورت ہو کہ لڑکی کا کوئی ولی نہیں ہے تو اس کا ولی حاکم وقت ہے۔
➊ نکاح میں جس طرح لڑکی کی رضا مندی ضروری ہے، اس طرح اس کے سر پرست کی اجازت بھی ضروری ہے۔
➋ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح شرعاً غیر قانونی ہے، لہٰذا اگر سر پرست اجازت دینے سے انکار کر دے تو میاں بیوی میں جدائی کروا دی جائے گی۔
➌ مقاربت کے بعد جدائی ہونے کی صورت میں مرد کے ذمے پورا حق مہر ادا کرنا لازم ہوگا۔
➍ اسلامی سلطنت میں بادشاہ کو نکاح کے معاملات میں مداخلت کا حق حاصل ہے، اسی طرح بادشاہ کے نائب مقامی حکام بھی یہ حق رکھتے ہیں، موجودہ حالات میں اس قسم کے فیصلے عدالتیں کرتی ہیں، پنچایت میں بھی یہ معاملہ حل کیا جا سکتا ہے۔
➎ اگر کوئی بچی لاوارث ہو اور اس کا کوئی قریبی رشتے دار نہ ہو جو سرپرست کے طور پر اس کے مفادات کا خیال رکھ سکے، تو اس صورت میں بھی اسلامی سلطنت کو سرپرست کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مسئلہ ولایت نکاح کی مزید تحقیق وتفصیل کے لیے ملاحظہ ہو کتاب مفرورلڑکیوں کا نکاح اور ہماری عدالتیں از حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 230]

Musnad al-Humaydi Hadith 230 in Urdu