علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 239
حدیث نمبر: 239
حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا خَالَطَتِ الصَّدَقَةُ مَالا قَطُّ إِلا أَهْلَكَتْهُ , قَالَ: قَدْ يَكُونُ قَدْ وَجَبَ عَلَيْكَ فِي مَالِكَ صَدَقَةٌ، فَلا تُخْرِجُهَا فَيُهْلِكَ الْحَرَامُ الْحَلالَ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”صدقہ (یعنی زکوٰۃ کا مال) جس بھی مال کے ساتھ مل جاتا ہے وہ اسے ہلاکت کا شکار کر دیتا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض اوقات تمہارے مال میں تم پر زکوٰۃ دینا لازم ہوتا ہے اور اگر تم اسے نہیں نکالتے ہو، تو حرام حلال کو ضائع کر دیتا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 239]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف: محمد بن عثمان بن صفوان الجمحي ترجمه البخاري فى الكبير، 180/1 ولم يورد فيه جرحاً ولا تعديلاً، وقال ابن أبى حاتم فى «الجرح والتعديل» 24/8: سألت أبى عنه فقال: منكر الحديث، ضعيف الحديث . وقال الدار قطني: «ليس بقوي» . وقال الذهي فى «كاشفه» : « «لين» . وذكره ابن حبان فى الثقات 24/7 وقال الذهبي فى الميزان 641/3 ”قال أبو حاتم: منكر الحديث“»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥محمد بن عثمان الجمحي محمد بن عثمان الجمحي ← هشام بن عروة الأسدي | ضعيف الحديث |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 239 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:239
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ زکاۃ ضرور نکالنی چاہیے، ورنہ حلال مال بھی تباہ ہو جاتا ہے اور اس میں برکت نہیں رہتی۔ افسوس کہ آج کل اکثر لوگ زکاۃ نہیں دیتے، یہی وجہ ہے کہ کروڑ پتی لوگوں کے مالوں میں بھی برکت نہیں رہی۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ زکاۃ ضرور نکالنی چاہیے، ورنہ حلال مال بھی تباہ ہو جاتا ہے اور اس میں برکت نہیں رہتی۔ افسوس کہ آج کل اکثر لوگ زکاۃ نہیں دیتے، یہی وجہ ہے کہ کروڑ پتی لوگوں کے مالوں میں بھی برکت نہیں رہی۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 239]
Musnad al-Humaydi Hadith 239 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق