🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 249
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 249
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: جَلَسَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي، فَجَعَلَ يُحَدِّثُ، وَيَقُولُ: اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ! فَلَمَّا قَضَتْ صَلاتَهَا قَالَتْ لِي:" يَا ابْنَ أُخْتِي! أَلا تَعْجَبُ إِلَى هَذَا وَإِلَى حَدِيثِهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا كَانَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ الْعَادُّ أَحْصَاهُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَلَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ مِنَ الزُّهْرِيِّ.
عروہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس آ کر بیٹھے وہ اس وقت نماز ادا کر رہی تھیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کرنا شروع کی اور یہ کہنے لگے: اے حجرے کی مالک خاتون! آپ سنیں جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نماز مکمل کی تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے میرے بھانجے! کیا تمہیں اس شخص پر اور اس کے طرز بیان پر حیرت نہیں ہو رہی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات کرتے تھے، تو اگر کوئی گننے والا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کو) گننا چاہتا تو وہ گن سکتا تھا (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر بیان کرتے تھے)۔
امام حمیدی کہتے ہیں: سفیان نے یہ روایت بھی زہری سے نہیں سنی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 249]
تخریج الحدیث: «إسناده، منقطع، وانظر تعليقا على الإسناد الأسبق، وتعليق الحميدي فى نهاية الحديث والحديث متفق عليه، فقد أخرجه البخاري فى المناقب 3567، 3568، باب: صفة النبى صلى الله عليه وسلم ومسلم فى فضائل الصحابة 2493، باب: من فضائل أبى هزيرة الدوسي .وقد استوفينا تخريجه فى مسند الموصلي برقم 4393، 4677، وفي صحيح ابن حبان، برقم 7153»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 249 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:249
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ تدریس اور خطبے کے دوران بات آہستہ آہستہ کرنی چاہیے، تا کہ سامعین بات کو اچھی طرح سمجھ لیں بعض لوگوں کا تدریس اور خطابت میں تیز تیز بولنا درست نہیں ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 249]

Musnad al-Humaydi Hadith 249 in Urdu