🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 270
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 270
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: " وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي رَجُلا مِنْ أَصْحَابِي"، فَقُلْتُ: أَلا نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟ قَالَ:" لا، ثُمَّ قَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي رَجُلا مِنْ أَصْحَابِي"، فَقُلْتُ: أَلا نَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ قَالَ:" لا، ثُمَّ قَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي رَجُلا مِنْ أَصْحَابِي"، فَقُلْتُ: أَلا نَدْعُو لَكَ ابْنَ عَمِّكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ؟ قَالَ:" لا، ثُمَّ قَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي رَجُلا مِنْ أَصْحَابِي"، فَقُلْتُ: أَلا نَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ؟ فَسَكَتَ، قَالَتْ: فَأَمَرْتُ بِهِ فَدُعِيَ، فَلَمَّا جَاءَهُ خَلا بِهِ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُ , وَوَجْهُ عُثْمَانَ يَتَلَوَّنُ . قَالَ سُفْيَانُ : وَحَدَّثُونِي عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ فِي هَذَا الْحديث: فَلَمْ أَحْفَظْ مِنْ قَوْلِهِ , إِلا أَنَّهُ قَالَ:" وَإِنْ سَأَلُوكَ أَنْ تَنْخَلِعَ مِنْ قَمِيصٍ قَمَّصَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلا تَفْعَلْ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری خواہش ہے، میرے پاس میرے ساتھیوں میں سے کوئی فرد ہو۔ تو میں نے عرض کیا: کیا ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلوا لیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری خواہش ہے، میرے اصحاب میں سے کوئی فرد میرے پاس موجود ہو۔ تو میں نے عرض کی: کیا ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری یہ خواہش ہے، میرے اصحاب سے تعلق رکھنے والا فرد میرے پاس ہو؟ تو میں نے عرض کیا: کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو بلوا لیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری یہ خواہش ہے، میرے اصحاب سے تعلق رکھنے والا فرد میرے پاس ہو؟ تو میں نے عرض کیا: کیا ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوا لیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے انہیں بلوانے کی ہدایت کی جب وہ تشریف لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ خلوت میں بیٹھ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ کہنا شروع کیا، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہونے لگا۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: ایک اور سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ فرمایا تھا: اگر وہ لوگ تم سے یہ مطالبہ کریں کہ تم اس قمیض کو اتار دو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں پہنائی ہے، تو تم ایسا نہ کرنا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 270]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد خرجناه فى «مسند الموصلي» ، برقم 4805، وفي صحيح ابن حبان برقم 6915، 6986، وفي موارد الظمآن، برقم 2197، 2196،. ونضيف هنا: أخرجه أحمد 226/6-227، 254، 281 والحاكم 215/3، 218، وأبو نعيم فى حلية الأولياء 58/1»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥أبو سهلة الأموي، أبو سهلة
Newأبو سهلة الأموي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← أبو سهلة الأموي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← قيس بن أبي حازم البجلي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة حافظ حجة
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← سفيان بن عيينة الهلالي
صحابي
👤←👥أبو سهلة الأموي، أبو سهلة
Newأبو سهلة الأموي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← أبو سهلة الأموي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← قيس بن أبي حازم البجلي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 270 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:270
فائدہ:
اس حدیث میں خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا ثبوت اور ان کی خلافت کے دور میں فتنے برپا ہونے کا بیان ہے، قمیص سے مراد خلافت ہے، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ڈٹ کر فتنوں کا قلع قمع کیا، آخر کار مظلومانہ شہید کر دیے گئے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 270]

Musnad al-Humaydi Hadith 270 in Urdu