🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 319
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 319
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ السَّبَّاقِ , أَنَّهُ سَمِعَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ ، تَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: " هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟" , فَقُلْتُ: لا، إِلا عَظْمٌ قَدْ أُعْطِيَتْهُ مَوْلاةٌ لَنَا مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ النَّبِيًّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَرِّبِيهِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَعْنِي: لَيْسَ هِيَ الآنَ صَدَقَةً.
عبید بن سباق بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا کچھ کھانے کے لیے ہے؟ میں نے عرض کی: جی نہیں! صرف ایک ہڈی (والا گوشت ہے) جو ہماری کنیز کا صدقے کے طور پر دیا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہی لے آؤ، کیونکہ وہ اپنی جگہ تک پہنچ گیا ہے۔
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یعنی اب اس کی حیثیت صدقے والی نہیں رہی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 319]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «الزكاة» برقم: 1073، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5117، 5118، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 7067»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جويرية بنت الحارث الخزاعيةصحابي
👤←👥عبيد بن السباق الثقفي، أبو سعيد
Newعبيد بن السباق الثقفي ← جويرية بنت الحارث الخزاعية
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد بن السباق الثقفي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 319 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:319
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بھوک کی صورت میں میزبان سے کھانے کا خود مطالبہ کر لینا درست ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کی چیز نہیں کھاتے تھے، لیکن اگر کسی کو صدقہ ملا ہے تو وہ چیز اگر آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جائے تو ان کے لیے کھانا درست ہے، کیونکہ اب وہ آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صدقہ نہیں ہے بلکہ صدقہ تو کسی اور پر کیا گیا تھا۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 319]

Musnad al-Humaydi Hadith 319 in Urdu