🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 326
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 326
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ تَدْرُسَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهُمْ قَالُوا لَهَا: مَا أَشَدَّ مَا رَأَيْتِ الْمُشْرِكِينَ بَلَغُوا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: " كَانَ الْمُشْرِكُونَ قَعَدُوا فِي الْمَسْجِدِ يَتَذَاكَرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا يَقُولُ فِي آلِهَتِهِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامُوا إِلَيْهِ، وَكَانُوا إِذَا سَأَلُوا عَنْ شَيْءٍ صَدَقَهُمْ، فَقَالُوا: أَلَسْتَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ: بَلَى، فَتَشَبَّثُوا بِهِ بِأَجْمَعِهِمْ، فَأَتَى الصَّرِيخُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقِيلَ لَهُ: أَدْرِكْ صَاحِبَكَ، فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِنَا، وَإِنَّ لَهُ غَدَائرَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَهُوَ يَقُولُ: وَيْلَكُمْ أَتَقْتُلُونَ رَجُلا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ سورة غافر آية 28 قَالَ: فَلَهَوْا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَقْبَلُوا عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَرَجَعَ إِلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ، فَجَعَلَ لا يَمَسُّ شَيْئًا مِنْ غَدَائِرِهِ إِلا جَاءَ مَعَهُ , وَهُوَ يَقُولُ: تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ!" .
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: لوگوں نے ان سے دریافت کیا: آپ نے مشرکین کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ سخت سلوک کیا دیکھا ہے تو انہوں نے بتایا: مشرکین مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اپنے معبودوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کا تذکرہ کر رہے تھے وہ لوگ اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے وہ لوگ اٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کرتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات کو سچ قرار دیتے تھے۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا آپ نے ایک ایسی بات نہیں کہی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں! تو وہ سب لوگ مل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھپٹ پڑے تو کسی شخص نے بلند آواز میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پکارا ان سے کہا گیا: آپ اپنے آقا کے پاس پہنچیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں سے نکلے اس وقت ان کے لمبے لمبے بال تھے۔ وہ مسجد میں داخل ہوئے اور یہ کہتے جا رہے تھے تمہارا ستیاناس ہو کیا تم ایک ایسے صاحب کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتے ہیں: میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلائل بھی آ چکے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: تو ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو گئے (اور ان پر حملہ کر دیا) جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں واپس تشریف لائے تو ان کے جس بھی بال کو ہاتھ لگایا جاتا وہ ہاتھ میں آ جاتا تھا لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہی کہہ رہے تھے اے جلال اور اکرام والے تو برکت والا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 326]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ، برقم: 2899، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 52، وأورده ابن حجر فى «المطالب العالية» برقم: 4228» ‏‏‏‏

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسماء بنت أبي بكر القرشية، أم عبد اللهصحابي
👤←👥الوليد بن كثير القرشي، أبو محمد
Newالوليد بن كثير القرشي ← أسماء بنت أبي بكر القرشية
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← الوليد بن كثير القرشي
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 326 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:326
فائدہ:
اس حدیث میں کفار کی طرف سے مسلمانوں کو دی جانے والی بعض تکلیفوں کا ذکر ہے، اسلام کی خاطر تکالیف کو صبر تحمل سے برداشت کرنا چاہیے، پر یشانی نہیں لینی چاہیے، دل برداشتہ ہو کر مشن اسلام کو چھوڑ دینا بہت بڑا خسارا ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 326]

Musnad al-Humaydi Hadith 326 in Urdu