🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 334
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 334
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ , أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفِيهِ" .
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: فتح مکہ کے موقع پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑا اوڑھ کر اسے مخالف سمت میں کندھوں پر ڈال کر آٹھ رکعات نماز ادا کی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 334]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد، غير أن الحديث صحيح، وقد أخرجه البيهقي فى الصلاة 48/3 باب: ذكر من رواها ثمان ركعات، من طريق سفيان، بهذا الإسناد، ولتمام التخريج انظرسابقه»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥فاختة بنت أبي طالب الهاشمية، أم هانئصحابية
👤←👥عبد الله بن الحارث الهاشمي، أبو محمد
Newعبد الله بن الحارث الهاشمي ← فاختة بنت أبي طالب الهاشمية
ثقة
👤←👥يزيد بن أبي زياد الهاشمي، أبو عبد الله
Newيزيد بن أبي زياد الهاشمي ← عبد الله بن الحارث الهاشمي
ضعيف الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← يزيد بن أبي زياد الهاشمي
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 334 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:334
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز چاشت کی آٹھ رکعات پڑھنا بھی مسنون ہے۔ فتح مکہ ایک عظیم انعام باری تعالیٰ تھا، اس کے شکرانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز چاشت کی آٹھ رکعات ادا کیں۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ سفر و حضر میں نماز چاشت کا اہتمام کرنا چاہیے، نماز چاشت کی دو رکعات بھی ثابت ہیں۔ (صحیح البخاری: 721) بلکہ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو تین باتوں کی وصیت کی تھی، جن میں ایک یہ بھی تھی کہ میں چاشت کی دو رکعتوں کو کبھی نہ چھوڑوں۔ (صحیح ابن خزیمہ: 7083)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آدمی کے ہر جوڑ پر ہر صبح صدقہ ہوتا ہے، اور ان سب اعضاء (جوڑوں) کا صدقہ نماز چاشت کی دو رکعتیں ہیں۔ (صحیح مسلم: 720)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طلوع آفتاب کے بعد دو رکعتیں پڑھنے والے کو مکمل حج وعمرہ کا ثواب ملے گا۔ (سنن ترمذی: 586، اسناده صحیح)
نماز چاشت اور نماز اشراق دو الگ الگ نماز میں ہیں، اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج طلوع ہونے کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے، پھر وقفہ کرتے، یہاں تک کہ چاشت کے وقت تک آ فتاب بلند ہو جاتا، تو پھر چار رکعت پڑھتے تھے۔ (سنن ترمذی: 475، سندہ حسن) یادر ہے کہ سورج طلوع ہونے سے نماز اشراق کا وقت شروع ہو جاتا ہے، اور جب سورج کی گرمی کچھ تیز ہو جائے تو نماز چاشت کا وقت شروع ہو جاتا ہے، اور سورج کے زوال تک رہتا ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 334]

Musnad al-Humaydi Hadith 334 in Urdu