🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(منیٰ میں چار رکعات نماز اور مقیم کی نماز کا حکم)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 36
حَدَّثنا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثنا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى بِأَهْلِ مِنًى أَرْبَعًا، فَأَنْكَرَ النَّاسُ عَلَيْهِ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنِّي تَأَهَّلْتُ بِأَهْلِي بِهَا لَمَّا قَدِمْتُ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا تَأَهَّلَ الرَّجُلُ فِي بَلَدٍ، فَلْيُصَلِّ بِهِ صَلاةَ الْمُقِيمِ" .
ابن ابوذباب اپنے والد کے حوالے سے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ان کے والد کہتے ہیں: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعات نماز پڑھائی تو لوگوں نے ان پر اعتراض کیا، تو وہ بولے: جب میں یہاں آیا تو میں نے اپنی بیوی کی وجہ سے اسے بھی اپنا وطن بنا لیا ہے، اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جب آدمی کسی شہر میں شادی کر لے، تو اسے وہاں مقیم شخص کی سی نماز ادا کرنی چاہئے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 36]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف وقد فلصلنا الكلام فيه فى مجمع الزوائد برقم 2974»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عثمان بن عفان، أبو عمروصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن الحارث السدوسي
Newعبد الرحمن بن الحارث السدوسي ← عثمان بن عفان
مجهول الحال
👤←👥عبد الله بن عبد الرحمن الدوسي
Newعبد الله بن عبد الرحمن الدوسي ← عبد الرحمن بن الحارث السدوسي
ثقة
👤←👥عكرمة بن إبراهيم الأزدي، أبو عبد الله، أبو عمرو
Newعكرمة بن إبراهيم الأزدي ← عبد الله بن عبد الرحمن الدوسي
ضعيف الحديث
👤←👥جردقة البصري، أبو سعيد
Newجردقة البصري ← عكرمة بن إبراهيم الأزدي
ثقة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 36 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:36
فائدہ:
یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔ اس میں ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ منیٰ میں پوری نماز پڑھتے تھے اور اس کی وجہ یہ بیان کرتے تھے کہ میں یہاں اپنے اہل وعیال سمیت ٹھہرا ہوا ہوں، جب سے میں یہاں آیا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص کسی جگہ اپنے اہل وعیال سمیت کسی شہر میں ٹھہرے تو وہ متیم آ دمی والی نماز پڑھے۔ یہ روایت اگر چہ ضعیف ہے،لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ منٰی میں پہلے دو رکعت ہی پڑھا کرتے تھے لیکن خلافت کے کچھ عرصہ بعد وہ منٰی میں پوری نماز پڑھنے لگے تھے۔ (صـحـيـح البخاری: 1082، 1083، 1084)، اس پر سیر حاصل بحث کے لیے (فتح الباری: 470/3، 472) کا مطالعہ کریں۔ صحیح بات یہی ہے کہ منیٰ میں دو رکعت ہی پڑھنی چاہیے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پڑھا کرتے تھے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 36]