مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 551
حدیث نمبر: 551
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ" .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں بنے گا اور کافر، مسلمان کا وارث نہیں بنے گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 551]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1588، 3058، 4282، 6764، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1351، 1614، ومالك فى «الموطأ» برقم:، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2985، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5149، 6033، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2962، 4200، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4241، 4242، 6337، 6338، 6339، 6340، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2010، 2909، 2910، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2107، والدارمي فى «مسنده» برقم: 3041، 3043، 3044، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2729، 2730، 2942، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22161»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أسامة بن زيد الكلبي، أبو حارثة، أبو يزيد، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو زيد | صحابي | |
👤←👥عمرو بن عثمان الأموي، أبو عثمان عمرو بن عثمان الأموي ← أسامة بن زيد الكلبي | ثقة | |
👤←👥علي زين العابدين، أبو محمد، أبو الحسن، أبو الحسين علي زين العابدين ← عمرو بن عثمان الأموي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← علي زين العابدين | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2010
| نحن نازلون بخيف بني كنانة حيث قاسمت قريش على الكفر يعني المحصب وذلك أن بني كنانة حالفت قريشا على بني هاشم أن لا يناكحوهم ولا يبايعوهم ولا يؤووهم |
مسندالحميدي |
551
| لا يرث المسلم الكافر، ولا الكافر المسلم |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 551 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:551
فائدہ:
اس حدیث میں وراثت کا ایک اہم مسئلہ بیان ہوا ہے کہ کوئی کافر کسی مسلمان کا اور کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں بن سکتا، ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا يتوارث أهل ملتين شتي» دو مختلف ملتوں والے آپس میں (کسی چیز میں بھی) وارث نہیں بن سکتے۔ [سنن ابي داؤد: 2911 اس كو امام ابن الجارود 967 نے صحیح کہا ہے]
علامہ نووی (متوفی: 676ھ) لکھتے ہیں:
وأمـا الـمسـلـم فلا يرث الكافر أيضا عند جـمـاهـيـر الـعلماء من الصحابة والتابعين ومن بعدهم ”جمہور صحابہ، تابعین اور ان کے بعد والوں کے نزدیک مسلم، کافر کا وارث نہیں بن سکتا“۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 2/ 33]
اس حدیث میں وراثت کا ایک اہم مسئلہ بیان ہوا ہے کہ کوئی کافر کسی مسلمان کا اور کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں بن سکتا، ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا يتوارث أهل ملتين شتي» دو مختلف ملتوں والے آپس میں (کسی چیز میں بھی) وارث نہیں بن سکتے۔ [سنن ابي داؤد: 2911 اس كو امام ابن الجارود 967 نے صحیح کہا ہے]
علامہ نووی (متوفی: 676ھ) لکھتے ہیں:
وأمـا الـمسـلـم فلا يرث الكافر أيضا عند جـمـاهـيـر الـعلماء من الصحابة والتابعين ومن بعدهم ”جمہور صحابہ، تابعین اور ان کے بعد والوں کے نزدیک مسلم، کافر کا وارث نہیں بن سکتا“۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 2/ 33]
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 551]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2010
وادی محصب میں اترنے کا بیان۔
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کل حج میں کہاں اتریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا عقیل نے کوئی گھر ہمارے لیے (مکہ میں) چھوڑا ہے؟“، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم خیف بنو کنانہ میں اتریں گے جہاں قریش نے کفر پر عہد کیا تھا (یعنی وادی محصب میں) ۱؎“، اور وہ یہ کہ بنو کنانہ نے قریش سے بنی ہاشم کے خلاف قسم کھائی تھی کہ وہ ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے، نہ خرید و فروخت، اور نہ انہیں پناہ دیں گے۔ زہری کہتے ہیں: خیف وادی کا نام ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2010]
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کل حج میں کہاں اتریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا عقیل نے کوئی گھر ہمارے لیے (مکہ میں) چھوڑا ہے؟“، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم خیف بنو کنانہ میں اتریں گے جہاں قریش نے کفر پر عہد کیا تھا (یعنی وادی محصب میں) ۱؎“، اور وہ یہ کہ بنو کنانہ نے قریش سے بنی ہاشم کے خلاف قسم کھائی تھی کہ وہ ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے، نہ خرید و فروخت، اور نہ انہیں پناہ دیں گے۔ زہری کہتے ہیں: خیف وادی کا نام ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2010]
فوائد ومسائل:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والد کا ترکہ ہجرت کی بنا پر چھوڑ دیا تھا۔
اور ابو طالب کی جائیداد طالب اور عقیل کو ملی تھی۔
حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بوجہ مسلمان ہونے کے اس کے وارث نہ ہوئے تھے۔
اور پھر طالب بد ر کے موقع پرلا پتہ ہوگیا۔
تو عقیل نے تمام گھر پر قبضہ کرلیا۔
2۔
وادی محصب (ابطح) میں اترنا اظہار تشکر کے طور پر تھا۔
کہ یہیں قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے بایئکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔
آج اللہ نے اس کے آثار مٹا کر نتیجہ الٹ دیا تھا۔
یعنی اللہ نے ان مقامات کو اسلام کا مرکز بنا دیا تھا۔
اور مسلمان ان پر غالب آگئے تھے۔
اسی لئے یہاں شکرانے کے طو ر پر اُترنا مستحب گردانا جاتا ہے۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والد کا ترکہ ہجرت کی بنا پر چھوڑ دیا تھا۔
اور ابو طالب کی جائیداد طالب اور عقیل کو ملی تھی۔
حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بوجہ مسلمان ہونے کے اس کے وارث نہ ہوئے تھے۔
اور پھر طالب بد ر کے موقع پرلا پتہ ہوگیا۔
تو عقیل نے تمام گھر پر قبضہ کرلیا۔
2۔
وادی محصب (ابطح) میں اترنا اظہار تشکر کے طور پر تھا۔
کہ یہیں قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے بایئکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔
آج اللہ نے اس کے آثار مٹا کر نتیجہ الٹ دیا تھا۔
یعنی اللہ نے ان مقامات کو اسلام کا مرکز بنا دیا تھا۔
اور مسلمان ان پر غالب آگئے تھے۔
اسی لئے یہاں شکرانے کے طو ر پر اُترنا مستحب گردانا جاتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2010]
Musnad al-Humaydi Hadith 551 in Urdu
عمرو بن عثمان الأموي ← أسامة بن زيد الكلبي