مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 572
حدیث نمبر: 572
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو نَجِيحٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: تَنَاوَلَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَجُلا مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ بِشَيْءٍ، فَكَلَّمَهُ فِيهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَقِيلَ لَهُ: أَغْضَبْتَ الأَمِيرَ، فَقَالَ خَالِدٌ : إِنِّي لَمْ أُرِدْ أَنْ أُغْضِبَهُ، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَشَدُّهُمْ عَذَابًا لِلنَّاسِ فِي الدُّنْيَا" .
خالد بن حکیم بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کسی علاقے کے کسی شخص پر ناراض ہو گئے۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں ان سے بات چیت کی، تو ان سے کہا گیا: آپ امیر کے سامنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں، تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بولے: میں ان پر غصہ نہیں کر رہا، میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے شدید عذاب اس شخص کو ہو گا، جو دنیا میں لوگوں کو شدید ترین عذاب دیتا تھا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 572]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه أحمد فى «مسنده» ، برقم: 17094، والطيالسي في «مسنده» برقم: 1253، والحميدي فى «مسنده» برقم: 572، والطبراني فى "الكبير" برقم: 3824، 4121، 4122»
الرواة الحديث:
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 572 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:572
فائدہ:
اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو اپنے ماتحت لوگوں پر بلا وجہ بختی کرتے ہیں، اور ان کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے ہیں، جو دنیا میں کسی پر ناجائز سختی کرتا ہے، قیامت کے دن اسے بھی سخت ترین عذاب دیا جائے گا، «اللهم لا تجعلنا منهم» ۔
اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو اپنے ماتحت لوگوں پر بلا وجہ بختی کرتے ہیں، اور ان کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے ہیں، جو دنیا میں کسی پر ناجائز سختی کرتا ہے، قیامت کے دن اسے بھی سخت ترین عذاب دیا جائے گا، «اللهم لا تجعلنا منهم» ۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 572]
خالد بن حكيم القرشي ← خالد بن الوليد المخزومي