🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(اہل نہروان کی نشانی اور سیاہ شخص کی علامت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 59
حَدَّثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثنا أَبُو كَثِيرٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَيِّدِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حِينَ قَتَلَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ، فَكَانَ النَّاسُ قَدْ وَجَدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ قَتْلِهِمْ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِي: " أَنَّ أنَاسًا يَخْرُجُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، وَلا يَعُودُونَ فِيهِ أَبَدًا، أَلا وَإِنَّ آيَةَ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلا أَسْوَدَ مُجَدَّعَ الْيَدِ، إِحْدَى يَدَيْهِ كَثَدِي الْمَرْأَةِ، لَهَا حَلَمَةٌ كَحَلَمَةِ الْمَرْأَةِ" ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: حَوْلَهَا سَبْعُ هُلْبَاتٍ، فَالْتَمِسُوهُ , فَإِنِّي لا أَرَاهُ إِلا فِيهِمْ، فَوَجَدُوهُ عَلَى شَفِيرِ النَّهْرِ تَحْتَ الْقَتْلَى، فَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَإِنَّ عَلِيًّا لَمُتَقَلِّدٌ قَوْسًا لَهُ عَرَبِيَّةً يَطْعَنُ بِهَا فِي مَخْدَجَتِهِ، قَالَ: فَفَرِحَ النَّاسُ حِينَ رَأَوْهُ وَاسْتَبْشَرُوا , وَذَهَبَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَجِدُونَ.
ابوکثیر بیان کرتے ہیں: میں اپنے آقا سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اس وقت جب انہوں نے اہل نہروان کے ساتھ جنگ کی تھی کچھ لوگوں کو نہیں قتل کرنے کے بارے میں الجھن محسوس ہوئی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی ہے: بے شک کچھ لوگ دین سے یوں نکل جائیں گے، جس طرح تیر نشانے سے پار ہو جاتا ہے، اور وہ لوگ دین میں واپس کبھی نہیں آئیں گے۔ یاد رکھنا! ان کی مخصوص نشانی یہ ہے کہ ان کے درمیان ایک سیاہ شخص ہوگا، جس کے ایک ہاتھ کی بناوٹ ناقص ہوگی۔ اس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی طرح ہوگا اور وہ یوں حرکت کرتا ہوگا، جس طرح عورت حرکت کرتی ہے۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: اس کے ارد گرد سات بال ہوں گے (سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) تم لوگ اسے تلاش کرو، کیونکہ میرا خیال ہے، وہ ان میں ہوگا، تو لوگوں نے نہر کے کنارے مقتولین میں اس شخص کو پا لیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ کہا ہے۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اپنے گلے میں عربی کمان لٹکائی ہوئی تھی انہوں نے وہ کمان اس کے ناقص ہاتھ پر چھوتے ہوئے یہ بات کہی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 59]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجهأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 478، وانظر فتح الباری: 293/18-298»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عبد الله بن مالك الزبيدي، أبو كثير
Newعبد الله بن مالك الزبيدي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن مسلم العبدي، أبو محمد
Newإسماعيل بن مسلم العبدي ← عبد الله بن مالك الزبيدي
ثقة
👤←👥عبد الملك بن إبراهيم الجدي، أبو عبد الله
Newعبد الملك بن إبراهيم الجدي ← إسماعيل بن مسلم العبدي
صدوق حسن الحديث
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 59 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:59
فائدہ:
اس حدیث میں خارجیوں کا ذکر ہے، ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ ان کا کچھ تعارف ہو جائے: خارجیوں کے مختلف نام اور القابات ہیں۔ انھیں خارجی اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیا تھا۔ انھیں حکمیہ بھی کہا جاتا ہے، اس لیے کہ انہوں نے سیدنا ابوموسی اشعری اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کو حاکم (فیصل) ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حاکم صرف اللہ تعالیٰ ہے، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان دو کو فیصل مان لیا تھا۔ ان کو حروریہ بھی کہا: جا تا ہے، اس لیے کہ اس گروہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ کر حروریہ مقام پر پڑاؤ ڈالا تھا۔ انھیں شراۃ بھی کہا: جا تا ہے، اس لیے کہ ان کا دعویٰ تھا کہ ہم نے اللہ کے رستے میں اپنی جانیں فروخت کر دی ہیں۔ انھیں مارقہ بھی کہا جاتا ہے، اس لیے کہ یہ دین سے نکلے ہوئے تھے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں خبر دی تھی کہ یہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جا تا ہے۔ پھر یہ دین میں واپس نہیں آ سکیں گے، لہٰذا یہ لوگ دین اسلام، ملت اور جمعیت اسلام سے خارج ہو چکے ہیں۔ صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ حکومت اسلامیہ کے باغی ہیں۔ خلفاء کے خلاف انہوں نے تلوار میں سونت لی ہیں۔ ان کے مال وخون کو حلال قرار دیا ہے۔ اپنے مخالفین کو کافر قرار دیا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دین کے مددگاروں کو برا بھلا کہا، ان سے بیزاری کا اظہار کیا، انھیں کفر اور کبائر کا مرتکب قرار دیا۔ ان کی مخالفت کو جائز سمجھا۔ عذاب قبر اور حوض کوثر کی نفی کی، شفاعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا، گناہ گار مسلمانوں کو دائمی جہنمی خیال کیا اور کہا: جس کسی نے جھوٹ بولا، صغیرہ یا کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا اور بلا توبہ فوت ہو گیا تو وہ کافر اور جہنمی ہے، ان کا دعوی ہے کہ جماعت امام کے علاوہ کسی اور کے پیچھے نہیں ہوتی، ان کے پندرہ فرقے ہیں۔ تفصیل کے لیے غنیۃ الطالبین (ص: 4، 216) کا مطالعہ کریں۔
اس حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خارجیوں کا قلع قمع کرنے میں کردار بیان ہوا ہے کہ انہوں نے ان کو قتل کیا ہے۔ لوگوں میں خارجیوں کے سردار کا نامحرقوس مشہور تھا، (سنن ابی داود: 4770، اسنادہ حسن)، اس شخص کے حالات کی کے کچھ وضاحت سنن ابی داود (4770، اسنادہ حسن) میں اس طرح ہے:
ابومریم نے کہا: کہ لنجا (خارجی) آ دمی ان دنوں ہمارے ساتھ مسجد میں ہوتا تھا۔ دن رات ہم اس کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ فقیر آدمی تھا۔ میں نے اسے ان مسکینوں کے ساتھ دیکھا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھانے میں شریک ہوا کرتے تھے جو وہ لوگوں کے ساتھ تناول فرمایا کرتے تھے۔ ابومریم نے کہا: اس لنجے کا نام نافع ذوالثدیہ (پستان والا) تھا۔ اس کے باز وعورت کے پستان کی طرح تھے، اور اس کے سر پر بھٹنی بھی تھی، اور اس پر بلی کی مونچھوں کی طرح کچھ بال تھے۔ آج کے دور کے داعش بھی خارجی ہیں۔ نیز «الرمية» ، کا معنی کمان کیا جا تا ہے جو کہ درست نہیں بلکہ عام کتب لغت میں اس کا معنی شکار لکھا ہوا ہے اور یہی معنی درست ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 59]

Musnad al-Humaydi Hadith 59 in Urdu