مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 655
حدیث نمبر: 655
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، وَصَالِحُ بْنُ قُدَامَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ، فَقَالَ:" لا آكُلُهُ وَلا أُحَرِّمُهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں اسے کھاتا بھی نہیں ہوں اور میں اسے حرام بھی قرار نہیں دیتا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 655]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5536، 7267، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1943، 1944، ومالك فى «الموطأ» برقم: 3551، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5264، 5265، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4325، 4326، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4807، 4808، 6614، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1790، والدارمي فى «مسنده» برقم: 280، 2058، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 26، 3242، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19469، 19470، 19471، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4584»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن دينار القرشي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة | |
👤←👥صالح بن قدامة القرشي، أبو محمد صالح بن قدامة القرشي ← عبد الله بن دينار القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← صالح بن قدامة القرشي | ثقة حافظ حجة |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 655 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:655
فائدہ:
① سانڈا حلال ہے۔ حدیث میں مذکور الفاظ «ولا أحـرمـه» اس کی صریح دلیل ہیں۔ صحيح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی حدیث اس سے بھی صریح ہے کہ انہوں نے «ضــــــــب» ، یعنی سانڈے کے متعلق خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: «أحرام الضب يا رسول الله؟» ”اے اللہ کے رسول! کیا سانڈا حرام ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا ولكن لم يكن بأرض قومي فأجدني أعافه» ”نہیں (سانڈا حرام نہیں) لیکن یہ میری قوم کے علاقے میں نہیں تھا، اس لیے میں اس سے (طبعی طور پر) کراہت محسوس کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري حديث: 5391 صحيح مسلم حديث: 1945]
② معلوم ہوا حلال وطیب چیز جوطبعاً نا پسند ہو اسے کھانا ضروری نہیں۔ اس سے اس کی حالت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ طبی لحاظ سے دیکھا جائے تو نا پسند چیز کھانے سے نا خوشگوار اور منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
③ حدیث میں لفظ ”ضب“ استعمال ہوا ہے۔ ہمارے ہاں عموما اس کے معنی”گو“ کیے جاتے ہیں لیکن جو اوصاف ضب کے بیان کیے گئے ہیں، وہ تمام کے تمام سانڈے میں بھی پائے جاتے ہیں، اس لیے درست بات یہی ہے کہ اس سے مراد سانڈا ہے، گوہ نہیں۔ واللہ اعلم۔
④ معلوم ہوا ضب حرام نہیں ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے منع فرما دیتے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر آپ کے سامنے اسے کھایا گیا۔ باقی رہا آپ کا اسے نہ کھانا تو آپ کی طبع لطیف کا تقاضا تھا۔ آپ بہت سی ایسی چیزوں سے پرہیز فرماتے تھے جو قطعاً حلال ہیں، مثلاً: لہسن، پیاز وغیرہ۔ حلت اور حرمت الگ چیز ہے اور طبعی کراہت و نا پسندیدگی الگ چیز ہے۔
① سانڈا حلال ہے۔ حدیث میں مذکور الفاظ «ولا أحـرمـه» اس کی صریح دلیل ہیں۔ صحيح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی حدیث اس سے بھی صریح ہے کہ انہوں نے «ضــــــــب» ، یعنی سانڈے کے متعلق خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: «أحرام الضب يا رسول الله؟» ”اے اللہ کے رسول! کیا سانڈا حرام ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا ولكن لم يكن بأرض قومي فأجدني أعافه» ”نہیں (سانڈا حرام نہیں) لیکن یہ میری قوم کے علاقے میں نہیں تھا، اس لیے میں اس سے (طبعی طور پر) کراہت محسوس کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري حديث: 5391 صحيح مسلم حديث: 1945]
② معلوم ہوا حلال وطیب چیز جوطبعاً نا پسند ہو اسے کھانا ضروری نہیں۔ اس سے اس کی حالت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ طبی لحاظ سے دیکھا جائے تو نا پسند چیز کھانے سے نا خوشگوار اور منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
③ حدیث میں لفظ ”ضب“ استعمال ہوا ہے۔ ہمارے ہاں عموما اس کے معنی”گو“ کیے جاتے ہیں لیکن جو اوصاف ضب کے بیان کیے گئے ہیں، وہ تمام کے تمام سانڈے میں بھی پائے جاتے ہیں، اس لیے درست بات یہی ہے کہ اس سے مراد سانڈا ہے، گوہ نہیں۔ واللہ اعلم۔
④ معلوم ہوا ضب حرام نہیں ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے منع فرما دیتے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر آپ کے سامنے اسے کھایا گیا۔ باقی رہا آپ کا اسے نہ کھانا تو آپ کی طبع لطیف کا تقاضا تھا۔ آپ بہت سی ایسی چیزوں سے پرہیز فرماتے تھے جو قطعاً حلال ہیں، مثلاً: لہسن، پیاز وغیرہ۔ حلت اور حرمت الگ چیز ہے اور طبعی کراہت و نا پسندیدگی الگ چیز ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 658]
عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي