مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(ہر بیماری کی دوا نازل ہونے کی روایت)
حدیث نمبر: 90
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَكُنَّا لَقِينَاهُ بِمَكَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ أَعُودُهُ، فَأَرَادَ غُلامٌ لَهُ أَنْ يُدَاوِيَهُ، فَنَهَيْتُهُ، فَقَالَ: دَعْهُ , فَإِنِّي سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً , وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: شِفَاءٌ عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ" .
سفیان بیان کرتے ہیں: عطاء بن سائب کے ساتھ ہماری مکہ میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا: ہم ابوعبدالرحمٰن سلمی کی خدمت میں ان کی عیادت کرنے کے لیے حاضر ہوئے، تو ان کے غلام نے انہیں دوائی دینے کا ارادہ کیا۔ میں نے اسے منع کر دیا تو وہ بولے: تم اسے کرنے دو، کیونکہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کی دوا بھی نازل کی ہے۔“ سفیان نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اس کی شفا بھی نازل کی ہے۔“ ”تو جس شخص کو اس کا علم ہوتا ہے، وہ اسے جان لیتا ہے اور جس کو اس کا علم نہیں ہوتا وہ اس سے ناواقف رہتا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 90]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:5183، وصحيح ابن حبان: 6062، وأحمد فى "مسنده"، برقم: 3648، برقم: 4000، برقم: 4321، برقم: 4353، برقم: 4420»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن حبيب السلمي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن حبيب السلمي ← عبد الله بن مسعود | ثقة ثبت | |
👤←👥عطاء بن السائب الثقفي، أبو محمد، أبو السائب، أبو زيد عطاء بن السائب الثقفي ← عبد الله بن حبيب السلمي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← عطاء بن السائب الثقفي | ثقة حافظ حجة |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 90 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:90
فائدہ:
اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے بہت محبت کرتے ہیں۔ اس محبت کا نتیجہ ہے کہ ہر بیماری کے ساتھ اس کا علاج بھی نازل کیا ہے۔ بیاری اور شفاء دونوں منجانب اللہ ہوتی ہیں، سنن أبي داود: 3855 اور سنن ابن ماجہ: 3436 میں اس مسئلہ کی وضاحت ہے کہ ایک اعرابی نے سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہمیں اس بات کا گناہ ہوگا کہ ہم بیماری سے شفاء کے لیے دوا استعمال نہ کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندو! شفاء کے لیے دوا استعمال کرو، اللہ تعالیٰ نے جو بیماری بنائی ہے، اس سے شفا کے لیے دوا بھی بنائی ہے، سوائے شدید بڑھاپے کے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی بیماری لا علاج نہیں ہے بلکہ ہر بیماری کا علاج موجود ہے۔ یہ انسان کی محنت، سمجھ اور توجہ پر مبنی ہے کہ مرض کی اچھی طرح تشخیص کرے اور مناسب غذا اور دوا کا اہتمام کرے۔ کچھ چیزوں میں اللہ تعالیٰ نے شفا ڈالی ہے، مثلا: شہد (النمل: 69)، زمزم (سـنـن ابـن مـاجـه: 3062، سـنـده حسن)، کلونجی (صـحـيـح الـخـاری: 5688)۔ ان چیزوں کا استعمال از حد ضروری ہے، اللہ تعالیٰ ضرور شفا عطا فرماتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے بہت محبت کرتے ہیں۔ اس محبت کا نتیجہ ہے کہ ہر بیماری کے ساتھ اس کا علاج بھی نازل کیا ہے۔ بیاری اور شفاء دونوں منجانب اللہ ہوتی ہیں، سنن أبي داود: 3855 اور سنن ابن ماجہ: 3436 میں اس مسئلہ کی وضاحت ہے کہ ایک اعرابی نے سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہمیں اس بات کا گناہ ہوگا کہ ہم بیماری سے شفاء کے لیے دوا استعمال نہ کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندو! شفاء کے لیے دوا استعمال کرو، اللہ تعالیٰ نے جو بیماری بنائی ہے، اس سے شفا کے لیے دوا بھی بنائی ہے، سوائے شدید بڑھاپے کے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی بیماری لا علاج نہیں ہے بلکہ ہر بیماری کا علاج موجود ہے۔ یہ انسان کی محنت، سمجھ اور توجہ پر مبنی ہے کہ مرض کی اچھی طرح تشخیص کرے اور مناسب غذا اور دوا کا اہتمام کرے۔ کچھ چیزوں میں اللہ تعالیٰ نے شفا ڈالی ہے، مثلا: شہد (النمل: 69)، زمزم (سـنـن ابـن مـاجـه: 3062، سـنـده حسن)، کلونجی (صـحـيـح الـخـاری: 5688)۔ ان چیزوں کا استعمال از حد ضروری ہے، اللہ تعالیٰ ضرور شفا عطا فرماتا ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 91]
عبد الله بن حبيب السلمي ← عبد الله بن مسعود