🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب ما تجب فيه الكفارة من الأيمان
جن قسموں میں کفارہ واجب ہوتا ہے ان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1020
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَلَفَ بِيَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَفْعَلِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قسم کھائے کسی کام پر، پھر اس کے خلاف بہتر معلوم ہو تو کفارہ دے قسم کا اور کرے جو بہتر معلوم ہو۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1020]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1650، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4349، والنسائی فى «الكبریٰ» برقم: 4704، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1530، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18922، 19907، 19920، 20007، 20019، 20020، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8855، والبزار فى «مسنده» برقم: 9759، فواد عبدالباقي نمبر: 22 - كِتَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ-ح: 11»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سهيل بن أبي صالح السمان، أبو يزيد
Newسهيل بن أبي صالح السمان ← أبو صالح السمان
ثقة
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1020B1
قَالَ يَحْيَى: وَسَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ: مَنْ قَالَ: عَلَيَّ نَذْرٌ، وَلَمْ يُسَمِّ شَيْئًا إِنَّ عَلَيْهِ كَفَّارَةَ يَمِينٍ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص یہ کہے میرے اوپر نذر ہے اور یہ کچھ نہ کہے کہ کس بات کی نذر ہے، تو اس پر کفارہ قسم کا لازم ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1020B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 22 - كِتَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ-ح: 11»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1020B2
قَالَ مَالِك: فَأَمَّا التَّوْكِيدُ فَهُوَ حَلِفُ الْإِنْسَانِ فِي الشَّيْءِ الْوَاحِدِ مِرَارًا، يُرَدِّدُ فِيهِ الْأَيْمَانَ يَمِينًا بَعْدَ يَمِينٍ، كَقَوْلِهِ: وَاللَّهِ لَا أَنْقُصُهُ مِنْ كَذَا وَكَذَا، يَحْلِفُ بِذَلِكَ مِرَارًا ثَلَاثًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَكَفَّارَةُ ذَلِكَ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ مِثْلُ كَفَّارَةِ الْيَمِينِ
فرمایا: ایک شخص نے یوں قسم کھائی کہ قسم اللہ کی میں یہ کھانا نہیں کھاؤں گا، اور یہ کپڑا نہیں پہنوں گا، اور گھر میں نہیں جاؤں گا، پھر یہ سب کام کئے تو ایک ہی کفارہ لازم آئے گا، اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی اپنی عورت کو کہے کہ تجھ کو طلاق ہے اگر یہ کپڑا تجھ کو پہناؤں، اور مسجد جانے کی تجھ کو اجازت دوں، تو یہ ایک کلام گنا جائے گا، اب اگر اس میں سے کوئی امر ہو جائے تو طلاق پڑ جائے گی۔ پھر دوسرا امر ہو گا تو دوبارہ طلاق نہ پڑے گی. [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1020B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 22 - كِتَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ-ح: 11»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1020B3
فَإِنْ حَلَفَ رَجُلٌ مَثَلًا، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا آكُلُ هَذَا الطَّعَامَ وَلَا أَلْبَسُ هَذَا الثَّوْبَ، وَلَا أَدْخُلُ هَذَا الْبَيْتَ، فَكَانَ هَذَا فِي يَمِينٍ وَاحِدَةٍ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ، وَإِنَّمَا ذَلِكَ كَقَوْلِ الرَّجُلِ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ الطَّلَاقُ إِنْ كَسَوْتُكِ هَذَا الثَّوْبَ، وَأَذِنْتُ لَكِ إِلَى الْمَسْجِدِ يَكُونُ ذَلِكَ نَسَقًا مُتَتَابِعًا فِي كَلَامٍ وَاحِدٍ، فَإِنْ حَنِثَ فِي شَيْءٍ وَاحِدٍ مِنْ ذَلِكَ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الطَّلَاقُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ فِيمَا فَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ حِنْثٌ، إِنَّمَا الْحِنْثُ فِي ذَلِكَ حِنْثٌ وَاحِدٌ.
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: عورت کو نذر کرنا درست ہے بغیر خاوند کی اجازت کے، جب اس نذر سے خاوند کو کچھ ضرر نہ ہو، اور جو خاوند کو ضرر ہو تو اس سے منع کر سکتا ہے، مگر وہ نذر عورت پر واجب رہے گی جب موقع ملے ادا کر لے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1020B3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 22 - كِتَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ-ح: 11»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1020B4
قَالَ مَالِك: الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي نَذْرِ الْمَرْأَةِ، إِنَّهُ جَائِزٌ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا يَجِبُ عَلَيْهَا ذَلِكَ، وَيَثْبُتُ إِذَا كَانَ ذَلِكَ فِي جَسَدِهَا، وَكَانَ ذَلِكَ لَا يَضُرُّ بِزَوْجِهَا وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ يَضُرُّ بِزَوْجِهَا، فَلَهُ مَنْعُهَا مِنْهُ وَكَانَ ذَلِكَ عَلَيْهَا حَتَّى تَقْضِيَهُ
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 22 - كِتَابُ النُّذُورِ وَالْأَيْمَانِ-ح: 11»