موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب الشركة فى الضحايا
ایک قربانی میں کئی آدمیوں کے شریک ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1069
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ صَيَّادٍ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، قَالَ: " كُنَّا نُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ يَذْبَحُهَا الرَّجُلُ عَنْهُ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، ثُمَّ تَبَاهَى النَّاسُ بَعْدُ فَصَارَتْ مُبَاهَاةً" .
حضرت عمارہ بن صیاد سے روایت ہے کہ عطاء بن یسار نے خبر دی ان کو، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سن کر،کہتے تھے کہ ہم قربانی کرتے تھے ایک بکری اپنے اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے، بعد اس کے فخر سمجھ کر ہر ایک کی طرف سے ایک ایک بکری کرنا شروع کی۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1069]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1069]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 1505، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3147، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19053، والطبراني فى "الكبير"، 3919، 3920، 3981، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 4085، فواد عبدالباقي نمبر: 23 - كِتَابُ الضَّحَايَا-ح: 10»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو أيوب الأنصاري، أبو أيوب | صحابي | |
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد عطاء بن يسار الهلالي ← أبو أيوب الأنصاري | ثقة | |
👤←👥عمارة بن عبد الله الأنصاري، أبو أيوب عمارة بن عبد الله الأنصاري ← عطاء بن يسار الهلالي | ثقة |
حدیث نمبر: 1069B1
قَالَ مَالِك: وَأَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الْبَدَنَةِ وَالْبَقَرَةِ وَالشَّاةِ الْوَاحِدَة، أَنَّ الرَّجُلَ يَنْحَرُ عَنْهُ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ الْبَدَنَةَ، وَيَذْبَحُ الْبَقَرَةَ وَالشَّاةَ الْوَاحِدَةَ هُوَ يَمْلِكُهَا، وَيَذْبَحُهَا عَنْهُمْ، وَيَشْرَكُهُمْ فِيهَا، فَأَمَّا أَنْ يَشْتَرِيَ النَّفَرُ الْبَدَنَةَ أَوِ الْبَقَرَةَ أَوِ الشَّاةَ، يَشْتَرِكُونَ فِيهَا فِي النُّسُكِ وَالضَّحَايَا، فَيُخْرِجُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ حِصَّةً مِنْ ثَمَنِهَا وَيَكُونُ لَهُ حِصَّةٌ مِنْ لَحْمِهَا، فَإِنَّ ذَلِكَ يُكْرَهُ، وَإِنَّمَا سَمِعْنَا الْحَدِيثَ أَنَّهُ لَا يُشْتَرَكُ فِي النُّسُكِ، وَإِنَّمَا يَكُونُ عَنْ أَهْلِ الْبَيْتِ الْوَاحِدِ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے جو بہتر سنا ہے اس باب میں وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک اونٹ یا گائے یا بکری جس کا وہ مالک ہو ذبح کرے اور سب آدمیوں کو ثواب میں شریک کرے، لیکن یہ صورت کہ ایک آدمی ایک اونٹ یا گائے یا بکری خرید کرے اور کئی آدمیوں کو قربانی میں شریک کرے، یعنی ہر ایک سے حصہ رسد قیمت لے اور اس کے موافق گوشت دے مکروہ ہے، ہم نے تو یہ سنا ہے کہ قربانی میں شرکت نہیں ہو سکتی، بلکہ ایک گھر کے لوگوں کی طرف سے ایک قربانی ہو سکتی ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1069B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 23 - كِتَابُ الضَّحَايَا-ح: 10»
Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 1069 in Urdu
عطاء بن يسار الهلالي ← أبو أيوب الأنصاري