الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب ما جاء فى كراهية إصابة الأختين بملك اليمين والمرأة وابنتها
دو بہنوں کو یا ماں بیٹیوں کو ملک یمین سے رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1105
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ أَمَةٌ مَمْلُوكَةٌ، فَاشْتَرَاهَا، وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً، فَقَالَ: " تَحِلُّ لَهُ بِمِلْكِ يَمِينِهِ مَا لَمْ يَبُتَّ طَلَاقَهَا، فَإِنْ بَتَّ طَلَاقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ بِمِلْكِ يَمِينِهِ، حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ" .
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 32»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه |
حدیث نمبر: 1105B1
قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَنْكِحُ الْأَمَةَ، فَتَلِدُ مِنْهُ ثُمَّ يَبْتَاعُهَا: إِنَّهَا لَا تَكُونُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ بِذَلِكَ الْوَلَدِ الَّذِي وَلَدَتْ مِنْهُ وَهِيَ لِغَيْرِهِ، حَتَّى تَلِدَ مِنْهُ، وَهِيَ فِي مِلْكِهِ بَعْدَ ابْتِيَاعِهِ إِيَّاه
امام مالک رحمہ اللہ نے اس شخص کے متعلق فرمایا جو (کسی کی) لونڈی سے نکاح کرلیتا ہے، پھر وہ لونڈی اس کے بچے کو جنم دیتی ہے، پھر وہ اس خرید لیتا ہے، (تو فرمایا کہ) بے شک وہ لونڈی اس (مالک بن جانے والے خاوند) کی اُم ولد نہیں بنے گی اس بچے کی وجہ سے جو اس نے اس وقت جنا تھا جب وہ کسی اور شخص کی ملکیت میں تھی، (وہ ام ولد نہیں بن سکتی) یہاں تک کہ وہ اس کا بچہ اس حال میں جنم دے کہ وہ خاوند کے اس خرید لینے کے بعد اسی (خاوند) کی ملکیت میں ہو۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1105B1]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1105B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 32»
حدیث نمبر: 1105B2
قَالَ مَالِكٌ: وَإِنِ اشْتَرَاهَا وَهِيَ حَامِلٌ مِنْهُ، ثُمَّ وَضَعَتْ عِنْدَهُ، كَانَتْ أُمَّ وَلَدِهِ بِذَلِكَ الْحَمْلِ، فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اور اگر ہو (خاوند) اس (لونڈی) کو اس حال میں خریدے کہ وہ اس کے نطفے سے حاملہ ہوچکی ہو، پھر وہ اس کے پاس (اس کی ملکیت میں آکر) بچہ جنے تو وہ ہماری رائے کے مطابق اس حمل کی وجہ سے اُم ولد شمار ہوگی۔ واللہ اعلم۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1105B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 32»