🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب إعادة الجنب الصلاة، وغسله إذا صلى ولم يذكر، وغسله ثوبه
جنبی نماز کو لوٹا دے غسل کر کے جب اس نے نماز پڑھ لی ہو بھول کر بغیر غسل کے اور اپنے کپڑے دھوئے اگر اس میں نجاست لگی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 113
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، أَنَّهُ اعْتَمَرَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي رَكْبٍ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَرَّسَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَرِيبًا مِنْ بَعْضِ الْمِيَاهِ، فَاحْتَلَمَ عُمَرُ وَقَدْ كَادَ أَنْ يُصْبِحَ، فَلَمْ يَجِدْ مَعَ الرَّكْبِ مَاءً، فَرَكِبَ حَتَّى جَاءَ الْمَاءَ، فَجَعَلَ يَغْسِلُ مَا رَأَى مِنْ ذَلِكَ الْاحْتِلَامِ حَتَّى أَسْفَرَ، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: أَصْبَحْتَ وَمَعَنَا ثِيَابٌ فَدَعْ ثَوْبَكَ يُغْسَلُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:" وَاعَجَبًا لَكَ يَا عَمْرُو بْنَ الْعَاصِ لَئِنْ كُنْتَ تَجِدُ ثِيَابًا أَفَكُلُّ النَّاسِ يَجِدُ ثِيَابًا، وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتُهَا لَكَانَتْ سُنَّةً، بَلْ أَغْسِلُ مَا رَأَيْتُ وَأَنْضِحُ مَا لَمْ أَرَ" .
حضرت یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرہ کیا ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے کئی شتر سواروں میں، ان میں سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بھی تھے، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رات کو اترے قریب پانی کے، تو احتلام ہوا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اور صبح قریب تھی، اور قافلہ میں پانی نہ تھا، تو سوار ہوئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہاں تک کہ آئے پانی کے پاس اور دھونے لگے کپڑے اپنے، یہاں تک کہ روشنی ہوگئی، اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے: صبح ہوگئی، ہمارے پاس کپڑے ہیں، آپ اپنا کپڑا چھوڑ دیجیے دھو ڈالا جائے گا، اور ہمارے کپڑوں میں سے ایک کپڑا پہن لیجیے۔ تو کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے: تعجب ہے اے عمرو بن عاص! کیا تمہارے پاس کپڑے ہیں تو تم سمجھتے ہو کہ سب آدمیوں کے پاس کپڑے ہوں گے، قسم اللہ کی! اگر میں ایسا کروں تو یہ امر سنت ہو جائے، بلکہ دھو ڈالتا ہوں میں جہاں نجاست معلوم ہوتی ہے، اور پانی چھڑک دیتا ہوں جہاں نہیں معلوم ہوتی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 113]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 817، 818، 1932، 4142، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 932، 933، 935، 1445 وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 906، 3992، 3993، 37636، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 295، 296، 2363، 2364، شركة الحروف نمبر: 104، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 83»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥يحيى بن عبد الرحمن اللخمي، أبو محمد، أبو بكر
Newيحيى بن عبد الرحمن اللخمي ← عمر بن الخطاب العدوي
ثقة
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← يحيى بن عبد الرحمن اللخمي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 113B
قَالَ مَالِك، فِي رَجُلٍ وَجَدَ فِي ثَوْبِهِ أَثَرَ احْتِلَامٍ، وَلَا يَدْرِي مَتَى كَانَ، وَلَا يَذْكُرُ شَيْئًا رَأَى فِي مَنَامِهِ، قَالَ: لِيَغْتَسِلْ مِنْ أَحْدَثِ نَوْمٍ نَامَهُ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ النَّوْمِ، فَلْيُعِدْ مَا كَانَ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ النَّوْمِ، مِنْ أَجْلِ أَنَّ الرَّجُلَ رُبَّمَا احْتَلَمَ وَلَا يَرَى شَيْئًا، وَيَرَى وَلَا يَحْتَلِمُ، فَإِذَا وَجَدَ فِي ثَوْبِهِ مَاءً فَعَلَيْهِ الْغُسْلُ، وَذَلِكَ أَنَّ عُمَرَ أَعَادَ مَا كَانَ صَلَّى لِآخِرِ نَوْمٍ نَامَهُ، وَلَمْ يُعِدْ مَا كَانَ قَبْلَهُ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایک شخص نے کپڑے میں نشان احتلام کا پایا اور اس کو خبر نہیں کہ کب احتلام ہوا، اور نہ خواب میں جو دیکھا یاد ہے، تو وہ غسل کرے اخیر خواب سے، اگر اس نے بعد اس خواب کے نماز پڑھی تو اس کا اعادہ کرے، اس لیے کہ کبھی آدمی کو احتلام ہوتا ہے اور کچھ نہیں دیکھتا، اور کبھی دیکھتا ہے مگر احتلام نہیں ہوتا، تو جب تری دیکھے غسل اس کو لازم ہوگا، وجہ اس کی یہ ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جو نماز پڑھی تھی اخیر نیند کے، بعد اسی کا اعادہ کیا، اور اس سے پہلے کی نمازوں کا اعادہ نہ کیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 113B]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 104، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 83»

Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 113 in Urdu