🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب ما جاء فى طلاق العبد
غلام کی طلاق کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1189
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ: " مَنْ أَذِنَ لِعَبْدِهِ أَنْ يَنْكِحَ، فَالطَّلَاقُ بِيَدِ الْعَبْدِ لَيْسَ بِيَدِ غَيْرِهِ مِنْ طَلَاقِهِ شَيْءٌ، فَأَمَّا أَنْ يَأْخُذَ الرَّجُلُ أَمَةَ غُلَامِهِ، أَوْ أَمَةَ وَلِيدَتِهِ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ"
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جو شخص اپنے غلام کو نکاح کی اجازت دے تو طلاق غلام کے اختیار میں ہو گی، نہ کہ اور کسی کے ہاتھ میں۔ اگر آدمی اپنے غلام کی لونڈی یا اس کی لونڈی چھین کر اس سے وطی کرے تو درست ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1189]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15114، والبيهقي فى «سننه الصغير» برقم: 2696، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4480، 4481، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12968، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18283، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 795، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 51»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ آزاد شخص یا غلام لونڈی کو طلاق دے، یا غلام آزاد بی بی کو طلاق دے اگرچہ وہ حاملہ ہو تو اس کا نفقہ اس پر لازم نہ آئے گا، جب طلاق بائن ہو جس میں رجعت نہیں ہو سکتی۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1190Q1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 51ق»

مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر آزاد مرد کسی لونڈی سے نکاح کرے، اور اس سے بچہ پیدا ہو تو دودھ پلوائی کا خرچ خاوند پر نہ ہوگا، بلکہ اس کی ماں کے مالک پر ہوگا، کیونکہ وہ بچہ اس کا غلام ہے، اور اگر غلام کسی لونڈی سے نکاح کرے اور اس سے بچہ پیدا ہو تو دودھ پلوائی کا خرچ غلام پر نہ ہوگا، کیونکہ غلام کو مولیٰ کا مال صرف کرنا اس شخص پر جو مولیٰ کی ملک نہیں بغیر مولیٰ کی اجازت کے ناجائز ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1190Q2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 51ق»