الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب ما جاء فى نفقة المطلقة
مطلقہ کے نفقہ کا بیان
حدیث نمبر: 1206
عَنِ ابْنَ شِهَابٍ يَقُولُ: الْمَبْتُوتَةُ لَا تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهَا، حَتَّى تَحِلَّ، وَلَيْسَتْ لَهَا نَفَقَةٌ إِلَّا أَنْ تَكُونَ حَامِلًا، فَيُنْفَقُ عَلَيْهَا حَتَّى تَضَعَ حَمْلَهَا.
ابن شہاب کہتے ہیں: جس عورت کو تین طلاق ہوئی ہوں وہ اپنے گھر سے نہ نکلے یہاں تک کہ عدت سے فارغ ہو، اور اس کو نفقہ نہ ملے گا مگر جب حاملہ ہو تو وضع حمل تک ملے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1206]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12009، 12016، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 68»
حدیث نمبر: 1207Q1
قَالَ مالِكٌ: الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي طَلَاقِ الْعَبْدِ الْأَمَةَ، إِذَا طَلَّقَهَا وَهِيَ أَمَةٌ، ثُمَّ عَتَقَتْ بَعْدُ، فَعِدَّتُهَا عِدَّةُ الْأَمَةِ، لَا يُغَيِّرُ عِدَّتَهَا عِتْقُهَا، كَانَتْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ، أَوْ لَمْ تَكُنْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ. لَا تَنْتَقِلُ عِدَّتُهَا.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر لونڈی کو غلام طلاق دے پھر وہ لونڈی آزاد ہو جائے تو اس کی عدت لونڈی کی سی ہے، اس غلام کو رجعت کا حق باقی رہے یا نہ رہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1207Q1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 69»
حدیث نمبر: 1207Q2
َالَ مَالِكٌ: وَمِثْلُ ذَلِكَ الْحَدُّ يَقَعُ عَلَى الْعَبْدِ، ثُمَّ يَعْتِقُ بَعْدَ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ الْحَدُّ، فَإِنَّمَا حَدُّهُ حَدُّ عَبْدٍ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایسا ہی اگر غلام پر حد واجب ہو، پھر آزاد ہو جائے تو غلام ہی کی مثل حد رہے گی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1207Q2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 69»
حدیث نمبر: 1207Q3
قَالَ مَالِكٍ: وَالْحُرُّ يُطَلِّقُ الْأَمَةَ ثَلَاثًا، وَتَعْتَدُّ بِحَيْضَتَيْنِ، وَالْعَبْدُ يُطَلِّقُ الْحُرَّةَ تَطْلِيقَتَيْنِ، وَتَعْتَدُّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ آزاد شخص کو لونڈی پر تین طلاق کا اختیار ہے، مگر لونڈی کی عدت دو حیض ہیں، اور غلام کو آزاد عورت پر دو طلاق کا اختیار ہے، مگر عدت اس کی تین طہر ہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1207Q3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 69»
حدیث نمبر: 1207Q4
قَالَ مَالِكٌ: فِي الرَّجُلِ تَكُونُ تَحْتَهُ الْأَمَةُ، ثُمَّ يَبْتَاعُهَا فَيَعْتِقُهَا، إِنَّهَا تَعْتَدُّ عِدَّةَ الْأَمَةِ حَيْضَتَيْنِ، مَا لَمْ يُصِبْهَا، فَإِنْ أَصَابَهَا بَعْدَ مِلْكِهِ إِيَّاهَا قَبْلَ عِتَاقِهَا، لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا إِلَّا الِاسْتِبْرَاءُ بِحَيْضَةٍ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر لونڈی کسی کے نکاح میں ہو، پھر خاوند اس کو خرید لے اور آزاد کر دے، تو دو حیض سے عدت کرے اگر خریدنے کے بعد اس سے صحبت نہ کی ہو، ورنہ ایک حیض سے استبراء کافی ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1207Q4]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 69»