🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب تيمم الجنب
جنب کو تیمّم کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 122
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، عَنِ الرَّجُلِ الْجُنُبِ يَتَيَمَّمُ ثُمَّ يُدْرِكُ الْمَاءَ، فَقَالَ سَعِيدٌ : " إِذَا أَدْرَكَ الْمَاءَ، فَعَلَيْهِ الْغُسْلُ لِمَا يُسْتَقْبَلُ"
حضرت عبدالرحمٰن بن حرملہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا حضرت سعید بن مسیّب سے کہ جنب نے تیمّم کیا، پھر پایا پانی کو؟ تو کہا سعید نے کہ جب پائے پانی تو اس پر غسل واجب ہو گا آئندہ کے واسطے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: جس شخص کو احتلام ہو سفر میں، اور نہ ہو اس کے پاس پانی مگر موافق وضو کے، تو اگر اس کو پیاس کا خوف ہو تو اس پانی سے اپنی شرمگاہ اور نجاست لگ گئی ہو دھو ڈالے، پھر تیمّم کرے خاکِ پاک پر جیسا کہ حکم کیا ہے اس کو اللہ جل جلالہُ نے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 122]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، أخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 891، شركة الحروف نمبر: 113، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 92»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمدأحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥عبد الرحمن بن حرملة الأسلمي، أبو حرملة
Newعبد الرحمن بن حرملة الأسلمي ← سعيد بن المسيب القرشي
صدوق حسن الحديث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 122B
قَالَ مَالِك فِيمَنِ احْتَلَمَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ وَلَا يَقْدِرُ مِنَ الْمَاءِ إِلَّا عَلَى قَدْرِ الْوُضُوءِ، وَهُوَ لَا يَعْطَشُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَاءَ، قَالَ: يَغْسِلُ بِذَلِكَ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ الْأَذَى، ثُمَّ يَتَيَمَّمُ صَعِيدًا طَيِّبًا كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ.
وَسُئِلَ مَالِك، عَنْ رَجُلٍ جُنُبٍ أَرَادَ أَنْ يَتَيَمَّمَ فَلَمْ يَجِدْ تُرَابًا إِلَّا تُرَابَ سَبَخَةٍ، هَلْ يَتَيَمَّمُ بِالسِّبَاخِ؟ وَهَلْ تُكْرَهُ الصَّلَاةُ فِي السِّبَاخِ؟ قَالَ مَالِك: لَا بَأْسَ بِالصَّلَاةِ فِي السِّبَاخِ وَالتَّيَمُّمِ مِنْهَا لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ: فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة المائدة آية 6 فَكُلُّ مَا كَانَ صَعِيدًا فَهُوَ يُتَيَمَّمُ بِهِ سِبَاخًا كَانَ أَوْ غَيْرَهُ
سوال ہوا امام مالک رحمہ اللہ سے کہ ایک جنب کو تیمّم کی ضرورت ہوئی تو نہ پائی اس نے مٹی مگر کھاری مٹی نمک کی، کیا تیمّم کرے اس سے؟ اور کیا مکروہ ہے نماز اس میں؟
تو جواب دیا امام مالک رحمہ اللہ نے کہ کھاری یا نمکین مٹی سے تیمّم کرنے میں اور اس پر نماز پڑھنے میں کچھ مضائقہ نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: « ﴿‏فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا‏﴾ » ۔ پس قصد کرو زمین پاک کا تو جو چیز زمین کہلائے اس سے تیمّم کیا جائے، اگرچہ نمکین ہو یا اور کچھ۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 122B]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 113، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 92»