🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ الْقَضَاءِ فِي الدَّعْوَى
دعوے کے فیصلے کا بیان
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر ایک شخص مر جائے اور وہ لوگوں کا قرضدار ہو جس کا ایک گواہ ہو، اور اس کا بھی قرض ایک پر آتا ہو اس کا بھی ایک گواہ ہو، اور اس کے وارث قسم کھانے سے انکار کریں تو قرض خواہ قسم کھا کر اپنا قرضہ وصول کریں، اگر کچھ بچ رہے گا تو وہ وارثوں کو نہ ملے گا، کیونکہ انہوں نے قسم نہ کھا کر اپناحق آپ چھوڑ دیا، مگر جب وارث یہ کہیں کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ قرض میں سے کچھ بچ رہے گا اسی واسطے ہم نے قسم نہیں کھائی، اور حاکم کو معلوم ہو جائے کہ وارثوں نے اسی واسطے قسم نہ کھائی تھی تو اس صورت میں وارث قسم کھا کر جو کچھ مال بچ رہا ہے اس کو لے سکتے ہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: Q1422]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح:7ق»


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1422
قَالَ يَحْيَى: قَالَ مَالِك: عَنْ جَمِيلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُؤَذِّنِ ، أَنَّهُ كَانَ يَحْضُرُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ يَقْضِي بَيْنَ النَّاسِ، " فَإِذَا جَاءَهُ الرَّجُلُ يَدَّعِي عَلَى الرَّجُلِ حَقًّا نَظَرَ، فَإِنْ كَانَتْ بَيْنَهُمَا مُخَالَطَةٌ أَوْ مُلَابَسَةٌ، أَحْلَفَ الَّذِي ادُّعِيَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ، لَمْ يُحَلِّفْهُ".
حضرت جمیل بن عبدالرحمٰن حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس آیا کرتے تھے جب وہ فیصلہ کرتے تھے لوگوں کا، جو شخص کسی پر دعویٰ کرے، گو مدعی اور مدعا علیہ میں یک جائی اور تعلق اور ارتباط معلوم ہوتا تو مدعا علیہ سے حلف لیتے ورنہ حلف نہ لیتے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1422]
تخریج الحدیث: «مقطوع حسن، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21209، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 5981، والبخاري فى «تاريخ الكبير» برقم: 215/2، فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 8»

الحكم على الحديث:
مقطوع حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن عبد العزيز الأموي، أبو حفصثقة مأمون
👤←👥جميل بن عبد الرحمن المؤذن
Newجميل بن عبد الرحمن المؤذن ← عمر بن عبد العزيز الأموي
صدوق حسن الحديث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1422B1
قَالَ مَالِك: وَعَلَى ذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا، أَنَّهُ مَنِ ادَّعَى عَلَى رَجُلٍ بِدَعْوَى نُظِرَ، فَإِنْ كَانَتْ بَيْنَهُمَا مُخَالَطَةٌ أَوْ مُلَابَسَةٌ، أُحْلِفَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، فَإِنْ حَلَفَ بَطَلَ ذَلِكَ الْحَقُّ عَنْهُ، وَإِنْ أَبَى أَنْ يَحْلِفَ وَرَدَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعِي فَحَلَفَ طَالِبُ الْحَقِّ، أَخَذَ حَقَّهُ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہی حکم ہے، جو شخص دعویٰ کرے دوسرے پر تو دیکھا جائے گا اگر مدعی کو مدعی علیہ سے ملاپ اور تعلق معلوم ہوگا تو مدعی علیہ سے حلف لیں، اگر حلف کر لے گا مدعی کا دعویٰ باطل ہوگا، اگر انکار کرے تو پھر مدعی سے حلف لیں گے، اگر وہ حلف کر لے تو اپنا حق لے لے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1422B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 8»


Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 1422 in Urdu