موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ النُّحْلِ
جو ہبہ درست نہیں اس کا بیان
حدیث نمبر: 1454
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ يَنْحَلُونَ أَبْنَاءَهُمْ نُحْلًا ثُمَّ يُمْسِكُونَهَا، فَإِنْ مَاتَ ابْنُ أَحَدِهِمْ، قَالَ: مَا لِي بِيَدِي لَمْ أُعْطِهِ أَحَدًا، وَإِنْ مَاتَ هُوَ، قَالَ: هُوَ لِابْنِي قَدْ كُنْتُ أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ، مَنْ نَحَلَ نِحْلَةً فَلَمْ يَحُزْهَا الَّذِي نُحِلَهَا حَتَّى يَكُونَ إِنْ مَاتَ لِوَرَثَتِهِ فَهِيَ بَاطِلٌ"
حضرت عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا حال ہے لوگوں کا کہ ہبہ کرتے ہیں اپنے بیٹوں کو پھر روک لیتے ہیں، اگر بیٹا مر جاتا ہے تو کہتے ہیں: میرا مال میرے قبضے میں ہے کسی کو نہیں دیا، اگر باپ مر جاتا ہے تو کہہ جاتا ہے کہ وہ میرے بیٹے کا ہے اس کو میں ہبہ کر چکا ہوں، جو کوئی ہبہ کرے اور اس کو نافذ نہ کرے، یعنی موہوب لہُ اس پر قبضہ نہ کرے اس طرح سے کہ جب موہوب لہُ مرے تو وہ اس کے وارثوں کو ملے، تو وہ ہبہ باطل ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1454]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11949، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3782، 3784، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 16509، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 20117، فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 41»
الحكم على الحديث:
موقوف صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن عبد القاري، أبو محمد عبد الرحمن بن عبد القاري ← عمر بن الخطاب العدوي | صحابي صغير | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عبد الرحمن بن عبد القاري | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه |
حدیث نمبر: 1455Q1
قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ أَعْطَى أَحَدًا عَطِيَّةً لَا يُرِيدُ ثَوَابَهَا، فَأَشْهَدَ عَلَيْهَا. فَإِنَّهَا ثَابِتَةٌ لِلَّذِي أُعْطِيَهَا. إِلَّا أَنْ يَمُوتَ الْمُعْطِي قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَهَا الَّذِي أُعْطِيَهَا. قَالَ: وَإِنْ أَرَادَ الْمُعْطِي إِمْسَاكَهَا بَعْدَ أَنْ أَشْهَدَ عَلَيْهَا. فَلَيْسَ ذَلِكَ لَهُ. إِذَا قَامَ عَلَيْهِ بِهَا صَاحِبُهَا، أَخَذَهَا.
_x000D_
_x000D_
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص ثواب کے واسطے کسی کو کوئی شئے دے، اس کا عوض نہ چاہتا ہو اور لوگوں کو اس پر گواہ کر دے، تو وہ نافذ ہوجائے گا، مگر جب دینے والا مرجائے معطیٰ لہُ کے قبضے سے پہلے۔ اگر دینے والا یہ چاہے کہ بعد دینے کے اس کو رکھ چھوڑے تو یہ نہیں ہو سکتا، معطیٰ لہُ جب چاہے تو جبراً اس سے لے سکتا ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1455Q1]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1455Q1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 41ق»
حدیث نمبر: 1455Q2
قَالَ مَالِكٌ: وَمَنْ أَعْطَى عَطِيَّةً. ثُمَّ نَكَلَ الَّذِي أَعْطَاهَا. فَجَاءَ الَّذِي أُعْطِيَهَا بِشَاهِدٍ يَشْهَدُ لَهُ أَنَّهُ أَعْطَاهُ ذَلِكَ. عَرْضًا كَانَ أَوْ ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا أَوْ حَيَوَانًا. أُحْلِفَ الَّذِي أُعْطِيَ مَعَ شَهَادَةِ شَاهِدِهِ. فَإِنْ أَبَى الَّذِي أُعْطِيَ أَنْ يَحْلِفَ، حُلِّفَ الْمُعْطِي. وَإِنْ أَبَى أَنْ يَحْلِفَ أَيْضًا، أَدَّى إِلَى الْمُعْطَى مَا ادَّعَى عَلَيْهِ. إِذَا كَانَ لَهُ شَاهِدٌ وَاحِدٌ. فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَاهِدٌ، فَلَا شَيْءَ لَهُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر زید نے عمرو کو ایک شئے اللہ واسطے دی، بعد اس کے زید مرگیا عمرو ایک گواہ لے کر آیا، تو عمرو کو قسم کھانی پڑے گی، اگر وہ قسم کھا لے گا تو ایک گواہی اور ایک قسم پر وہ شئے عمرو کو دلا دیں گے، اگر عمرو نےقسم سے انکار کیا تو زید سے قسم لیں گے، اگر زید نےقسم کھانے سے انکار کیا تو وہ شئے دینی پڑے گی، جب عمرو کے پاس ایک گواہ بھی ہو، اگر ایک بھی گواہ نہ ہو تو عمرو کا صرف دعویٰ مسموع نہ ہوگا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1455Q2]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1455Q2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 41ق»
حدیث نمبر: 1455Q3
قَالَ مَالِكٌ: مَنْ أَعْطَى عَطِيَّةً لَا يُرِيدُ ثَوَابَهَا ثُمَّ مَاتَ الْمُعْطَى، فَوَرَثَتُهُ بِمَنْزِلَتِهِ، وَإِنْ مَاتَ الْمُعْطِي، قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الْمُعْطَى عَطِيَّتَهُ، فَلَا شَيْءَ لَهُ. وَذَلِكَ أَنَّهُ أُعْطِيَ عَطَاءً لَمْ يَقْبِضْهُ. فَإِنْ أَرَادَ الْمُعْطِي أَنْ يُمْسِكَهَا، وَقَدْ أَشْهَدَ عَلَيْهَا حِينَ أَعْطَاهَا، فَلَيْسَ ذَلِكَ لَهُ، إِذَا قَامَ صَاحِبُهَا أَخَذَهَا.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایک شخص نے ایک شئے اللہ واسطے دی، پھر معطیٰ لہُ قبل قبضے کے مر گیا، تو اس کے وارث اس کے قائم مقام ہوں گے، اگر دینے والا قبل معطیٰ لہُ کے قبضے کے مر گیا تو اب اس کو کچھ نہ ملے گا، کیونکہ قبضہ نہ ہونے کے سبب سے وہ ہبہ لغو ہوگیا، اگر دینے والا اس کو روک رکھے اور ہبہ پر گواہ نہ ہوں تو یہ نہیں ہوسکتا، جب معطیٰ لہُ لینے کو کھڑا ہو جائے تو لے سکتا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1455Q3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 41ق»
Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 14553 in Urdu
عبد الرحمن بن عبد القاري ← عمر بن الخطاب العدوي