موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب القضاء فى الوصية فى الثلث لا تتعدى
تہائی سے زیادہ وصیت درست نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1471
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ مَا تَرَى، وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا". فَقُلْتُ: فَالشَّطْرُ؟ قَالَ:" لَا". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ". قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَأُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا صَالِحًا، إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً، وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ. اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ. لَكِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ" .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کو آئے (یعنی بیمار پرسی کے لیے) حجة الوداع کے سال، میں اور میرا مرض شدید تھا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیماری کا حال تو آپ دیکھتے ہیں، اور میں مالدار ہوں اور میری وارث صرف میری ایک بیٹی ہے، کیا میں دو تہائی مال اللہ واسطے دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: آدھا مال دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہائی مال للہ دے دے، اور تہائی بھی بہت ہے۔ اگر تو اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ جائے تو بہتر ہے اس سے کہ فقیر بھیک منگا چھوڑ جائے، لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں، اور تو جو چیز صرف کرے گا اللہ کی رضامندی کے واسطے تجھ کو اس کا ثواب ملے گا، یہاں تک کہ تو جو اپنی بی بی کے منہ میں دیتا ہے اس کا بھی ثواب ملے گا۔“ پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اپنے ساتھیوں کے پیچھے رہ جاؤں گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو پیچھے رہ جائے گا اور نیک کام کرے گا، تیرا درجہ بلند ہوگا، اور شاید تو زندہ رہے (مکہ میں نہ مرے)، یہاں تک کہ نفع دے اللہ جل جلالہُ تیرے سبب سے ایک قوم کو اور نقصان دے ایک قوم کو، اے پروردگار! میرے اصحاب کی ہجرت پوری کردے، اور مت پھیر دے ان کو اس ہجرت سے ان کی ایڑیوں پر۔“ لیکن مصیبت زدہ سیدنا سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ ہیں، جن کے واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رنج کرتے تھے اس وجہ سے کہ وہ مکہ میں مر گئے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1471]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1471]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 56، 1295، 2742، 2744، 3936، 4409، 5354، 5659، 5668، 6373، 6733، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1628، 1748، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2355، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4249، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1271، 2611، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3656، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6284، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2740، 2864، 3104، والترمذي فى «جامعه» برقم: 975، 2116، والدارمي فى «مسنده» برقم: 3238، 3239، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2708، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 330، 331، 332، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6665،، وأحمد فى «مسنده» برقم: 1457، والحميدي فى «مسنده» برقم: 66، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 696، فواد عبدالباقي نمبر: 37 - كِتَابُ الْوَصِيَّةِ-ح: 4»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاق | صحابي | |
👤←👥عامر بن سعد القرشي عامر بن سعد القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عامر بن سعد القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه |
حدیث نمبر: 1471B1
قَالَ يَحْيَى: سَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يُوصِي بِثُلُثِ مَالِهِ لِرَجُلٍ، وَيَقُولُ: غُلَامِي يَخْدُمُ فُلَانًا مَا عَاشَ، ثُمَّ هُوَ حُرٌّ فَيُنْظَرُ فِي ذَلِكَ، فَيُوجَدُ الْعَبْدُ ثُلُثَ مَالِ الْمَيِّتِ، قَالَ: فَإِنَّ خِدْمَةَ الْعَبْدِ تُقَوَّمُ، ثُمَّ يَتَحَاصَّانِ، يُحَاصُّ الَّذِي أُوصِيَ لَهُ بِالثُّلُثِ بِثُلُثِهِ، وَيُحَاصُّ الَّذِي أُوصِيَ لَهُ بِخِدْمَةِ الْعَبْدِ بِمَا قُوِّمَ لَهُ مِنْ خِدْمَةِ الْعَبْدِ، فَيَأْخُذُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ خِدْمَةِ الْعَبْدِ أَوْ مِنْ إِجَارَتِهِ إِنْ كَانَتْ لَهُ إِجَارَةٌ بِقَدْرِ حِصَّتِهِ، فَإِذَا مَاتَ الَّذِي جُعِلَتْ لَهُ خِدْمَةُ الْعَبْدِ مَا عَاشَ عَتَقَ الْعَبْدُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کوئی وصیت کرے تہائی مال کی ایک شخص کو، اور کہے غلام میرا فلاں شخص کی خدمت کرے جب تک وہ شخص زندہ رہے، پھر آزاد ہے، بعد اس کے اس غلام کی قیمت تہائی مال نکلے تو غلام کی خدمت کی قیمت لگادیں گے، اور اس غلام میں حصّہ کرلیں گے، جس کو تہائی مال کی وصیت کی ہے اس کا حصّہ ایک تہائی ہوگا، اور جس کو خدمت کی وصیت کی ہے اس کا حصّہ خدمت کے موافق ہوگا، بعد اس کے دونوں شخص کی خدمت یا کمائی میں سے اپنا حصّہ لیا کریں گے۔ جب وہ شخص مرجائے گا جس کے واسطے خدمت کی تھی تو غلام آزاد ہوجائے گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1471B1]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1471B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 37 - كِتَابُ الْوَصِيَّةِ-ح: 4»
حدیث نمبر: 1471B2
قَالَ: وَسَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ فِي الَّذِي يُوصِي فِي ثُلُثِهِ، فَيَقُولُ لِفُلَانٍ كَذَا وَكَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا وَكَذَا يُسَمِّي مَالًا مِنْ مَالِهِ، فَيَقُولُ وَرَثَتُهُ: قَدْ زَادَ عَلَى ثُلُثِهِ: فَإِنَّ الْوَرَثَةَ يُخَيَّرُونَ بَيْنَ أَنْ يُعْطُوا أَهْلَ الْوَصَايَا وَصَايَاهُمْ وَيَأْخُذُوا جَمِيعَ مَالِ الْمَيِّتِ، وَبَيْنَ أَنْ يَقْسِمُوا لِأَهْلِ الْوَصَايَا ثُلُثَ مَالِ الْمَيِّتِ فَيُسَلِّمُوا إِلَيْهِمْ ثُلُثَهُ، فَتَكُونُ حُقُوقُهُمْ فِيهِ إِنْ أَرَادُوا بَالِغًا مَا بَلَغَ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص وصیت کرے کئی آدمیوں کے لیے، پھر اس کے وارث یہ دعویٰ کریں کہ وصیت تہائی سے زیادہ ہے، تو وارثوں کو اختیار ہوگا، چاہے ہر ایک موصی لہُ کو اس کی وصیت ادا کریں اور میّت کا پورا ترکہ آپ لے لیں، یا تہائی مال موصی لہُ جتنے ہوں ان کے حوالہ کردیں، اور اپنے حصّوں کے موافق اس کو تقسیم کرلیں گے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1471B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 37 - كِتَابُ الْوَصِيَّةِ-ح: 4»
حدیث نمبر: 1472Q1
قَالَ مَالِكٌ: أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي وَصِيَّةِ الْحَامِلِ وَفِي قَضَايَاهَا فِي مَالِهَا وَمَا يَجُوزُ لَهَا. أَنَّ الْحَامِلَ كَالْمَرِيضِ. فَإِذَا كَانَ الْمَرَضُ الْخَفِيفُ، غَيْرُ الْمَخُوفِ عَلَى صَاحِبِهِ، فَإِنَّ صَاحِبَهُ يَصْنَعُ فِي مَالِهِ مَا يَشَاءُ. وَإِذَا كَانَ الْمَرَضُ الْمَخُوفُ عَلَيْهِ، لَمْ يَجُزْ لِصَاحِبِهِ شَيْءٌ إِلَّا فِي ثُلُثِهِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حاملہ بھی مثل بیمار کے ہے، اگر بیماری خفیف ہو جس میں موت کا خوف نہ ہو تو مالکِ مال کو اختیار ہے، جیسا چاہے تصرف کرے، البتہ جس بیماری میں موت کا خوف ہو تو تہائی سے زیادہ تصرف درست نہیں۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1472Q1]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1472Q1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 37 - كِتَابُ الْوَصِيَّةِ-ح: 4ق1»
حدیث نمبر: 1472Q2
قَالَ مَالِكٌ: وَكَذَلِكَ الْمَرْأَةُ الْحَامِلُ أَوَّلُ. حَمْلِهَا بِشْرٌ وَسُرُورٌ. وَلَيْسَ بِمَرَضٍ وَلَا خَوْفٍ. لِأَنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ: ﴿فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ﴾ وَقَالَ: ﴿فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ فَلَمَّا أَثْقَلَتْ دَعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴾ [الأعراف: 189] فَالْمَرْأَةُ الْحَامِلُ إِذَا أَثْقَلَتْ لَمْ يَجُزْ لَهَا قَضَاءٌ إِلَّا فِي ثُلُثِهَا فَأَوَّلُ الْإِتْمَامِ سِتَّةُ أَشْهُرٍ. قَالَ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي كِتَابِهِ: ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ﴾ [البقرة: 233] وَقَالَ: ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ [الأحقاف: 15] فَإِذَا مَضَتْ لِلْحَامِلِ سِتَّةُ أَشْهُرٍ مِنْ يَوْمَ حَمَلَتْ لَمْ يَجُزْ لَهَا قَضَاءٌ فِي مَالِهَا إِلَّا فِي الثُّلُثِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسی طرح حاملہ بھی اوائل حمل میں جب تک خوشی اور سرور اور صحت سے رہے، نہ مرض ہو نہ خوف، اپنے کل مال میں اختیار رکھے گی۔ اللہ جل جلالہُ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے: ”ہم نے بشارت دی سارہ کو اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔“ اور فرمایا اللہ جل جلالہُ نے: ”جب آدمی نے عورت سے جماع کیا تو اس کو حمل ہو گیا، ہلکا ہلکا چلتے پھرتے رہے، جب حمل بھاری ہوا تو دونوں نے دعا کی اللہ سے جو ان کا رب تھا کہ اگر تو ہم کو نیک (یا صحیح وسالم) بچہ دے گا تو ہم تیرا شکر ادا کریں گے۔“ پس عورت حاملہ جب بوجھل ہوجائے تو اس وقت تہائی مال سے زیادہ اختیار نہیں رہتا، اور یہ بعد چھ مہینے کے ہے، کیونکہ اللہ جل جلالہُ فرماتا ہے: ”مائیں اپنے بچے کو دو برس کامل دودھ پلائیں جو شخص دودھ کی مدت پوری کرنا چاہے۔“ اور پھر فرماتا ہے: ”حمل اور دودھ چھڑائی اس کی تیس مہینے میں ہوتی ہے۔“ تو جب حاملہ پر چھ مہینے گزر جائیں حمل کے روز سے، اس وقت سے اس کا تصرف تہائی مال سے زیادہ میں درست نہ ہو گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1472Q2]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1472Q2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 37 - كِتَابُ الْوَصِيَّةِ-ح: 4ق1»
حدیث نمبر: 1472Q3
قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَحْضُرُ الْقِتَالَ: إِنَّهُ إِذَا زَحَفَ فِي الصَّفِّ لِلْقِتَالِ، لَمْ يَجُزْ لَهُ أَنْ يَقْضِيَ فِي مَالِهِ شَيْئًا. إِلَّا فِي الثُّلُثِ. وَإِنَّهُ بِمَنْزِلَةِ الْحَامِلِ وَالْمَرِيضِ الْمَخُوفِ عَلَيْهِ مَا كَانَ بِتِلْكَ الْحَالِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص صفِ جنگ میں کھڑا ہو، اور لڑائی کو جائے اس کو بھی تہائی مال سے زیادہ اپنے مال میں تصرف درست نہیں، وہ بھی حاملہ اور بیمار کے حکم میں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1472Q3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 37 - كِتَابُ الْوَصِيَّةِ-ح: 4ق1»
حدیث نمبر: 1472Q5
قَالَ مَالِكٌ: فِي هَذِهِ الْآيَةِ إِنَّهَا مَنْسُوخَةٌ. قَوْلُ اللّٰهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ﴿إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ﴾ [البقرة: 180] نَسَخَهَا مَا نَزَلَ مِنْ قِسْمَةِ الْفَرَائِضِ فِي كِتَابِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ جو آیت ہے: « ﴿إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ﴾ » یعنی: ”جب تم میں سے کسی کو موت آنے لگے اور مال چھوڑ جائے تو وصیت کرے والدین اور ناطے والوں کے واسطے۔“ یہ آیت منسوخ ہے آیاتِ میراث سے جن میں اللہ نے ہر ایک کا حصّہ مقرر کردیا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1472Q5]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1472Q5]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 37 - كِتَابُ الْوَصِيَّةِ-ح: 4ق2»
حدیث نمبر: 1472Q6
قَالَ مَالِكٌ: السُّنَّةُ الثَّابِتَةُ عِنْدَنَا الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا. أَنَّهُ لَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ. إِلَّا أَنْ يُجِيزَ لَهُ ذَلِكَ وَرَثَةُ الْمَيِّتِ وَأَنَّهُ إِنْ أَجَازَ لَهُ بَعْضُهُمْ. وَأَبَى بَعْضٌ. جَازَ لَهُ حَقُّ مَنْ أَجَازَ مِنْهُمْ. وَمَنْ أَبَى، أَخَذَ حَقَّهُ مِنْ ذَلِكَ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک وارث کے واسطے وصیت درست نہیں ہے۔ مگر جب اور ورثاء اجازت دیں، اور اگر بعض ورثاء اجازت دیں اور بعض نہ دیں تو جو اجازت دیں گے ان کے حصّے میں سے وصیت ادا کی جائے گی۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1472Q6]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1472Q6]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 37 - كِتَابُ الْوَصِيَّةِ-ح: 4ق2»
حدیث نمبر: 1472Q7
قَالَ مَالِكٌ فِي الْمَرِيضِ الَّذِي يُوصِي فَيَسْتَأْذِنُ وَرَثَتَهُ فِي وَصِيَّتِهِ وَهُوَ مَرِيضٌ: لَيْسَ لَهُ مِنْ مَالِهِ إِلَّا ثُلُثُهُ. فَيَأْذَنُونَ لَهُ أَنْ يُوصِيَ لِبَعْضِ وَرَثَتِهِ بِأَكْثَرَ مِنْ ثُلُثِهِ. إِنَّهُ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَرْجِعُوا فِي ذَلِكَ. وَلَوْ جَازَ ذَلِكَ لَهُمْ، صَنَعَ كُلُّ وَارِثٍ ذَلِكَ فَإِذَا هَلَكَ الْمُوصِي، أَخَذُوا ذَلِكَ لِأَنْفُسِهِمْ وَمَنَعُوهُ الْوَصِيَّةَ فِي ثُلُثِهِ، وَمَا أُذِنَ لَهُ بِهِ فِي مَالِهِ. قَالَ: فَأَمَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ وَرَثَتَهُ فِي وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا لِوَارِثٍ فِي صِحَّتِهِ، فَيَأْذَنُونَ لَهُ. فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَلْزَمُهُمْ. وَلِوَرَثَتِهِ أَنْ يَرُدُّوا ذَلِكَ إِنْ شَاءُوا. وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا كَانَ صَحِيحًا كَانَ أَحَقَّ بِجَمِيعِ مَالِهِ. يَصْنَعُ فِيهِ مَا شَاءَ إِنْ شَاءَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ جَمِيعِهِ، خَرَجَ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ. أَوْ يُعْطِيهِ مَنْ شَاءَ وَإِنَّمَا يَكُونُ اسْتِئْذَانُهُ وَرَثَتَهُ جَائِزًا عَلَى الْوَرَثَةِ. إِذَا أَذِنُوا لَهُ حِينَ يُحْجَبُ عَنْهُ مَالُهُ، وَلَا يَجُوزُ لَهُ شَيْءٌ إِلَّا فِي ثُلُثِهِ. وَحِينَ هُمْ أَحَقُّ بِثُلُثَيْ مَالِهِ مِنْهُ. فَذَلِكَ حِينَ يَجُوزُ عَلَيْهِمْ أَمْرُهُمْ وَمَا أَذِنُوا لَهُ بِهِ. فَإِنْ سَأَلَ بَعْضُ وَرَثَتِهِ أَنْ يَهَبَ لَهُ مِيرَاثَهُ حِينَ تَحْضُرُهُ الْوَفَاةُ فَيَفْعَلُ. ثُمَّ لَا يَقْضِي فِيهِ الْهَالِكُ شَيْئًا. فَإِنَّهُ رَدٌّ عَلَى مَنْ وَهَبَهُ إِلَّا أَنْ يَقُولَ لَهُ الْمَيِّتُ: فُلَانٌ، لِبَعْضِ وَرَثَتِهِ ضَعِيفٌ، وَقَدْ أَحْبَبْتُ أَنْ تَهَبَ لَهُ مِيرَاثَكَ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَإِنَّ ذَلِكَ جَائِزٌ إِذَا سَمَّاهُ الْمَيِّتُ لَهُ. قَالَ: وَإِنْ وَهَبَ لَهُ مِيرَاثَهُ. ثُمَّ أَنْفَذَ الْهَالِكُ بَعْضَهُ وَبَقِيَ بَعْضٌ فَهُوَ رَدٌّ عَلَى الَّذِي وَهَبَ يَرْجِعُ إِلَيْهِ مَا بَقِيَ بَعْدَ وَفَاةِ الَّذِي أُعْطِيَهُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص بیمار ہو وہ اپنے وارثوں سے اجازت چاہے تہائی سے زیادہ وصیت کرنے کی، اور وارث اجازت دیں اس بات کی کہ تہائی سے زیادہ کسی وارث کے لیے وصیت کرے، تو پھر ان وارثوں کو رجوع کا اختیار نہیں، اگر رجوع درست ہوتا تو ہر وارث یہی کیا کرتا، جب موصی مرجاتا تو مال وصیت آپ لے لیا کرتے، اور اس کی وصیت روک دیتے، البتہ اگر کوئی شخص صحت کی حالت میں اپنے وارثوں سے اجازت چاہے وارث کے واسطے وصیت کرنے کی، اور وہ اجازت دے دے تو اس سے رجوع کر سکتے ہیں، کیونکہ جب آدمی صحیح ہے تو اپنے کل مال میں اختیار رکھتا ہے، چاہے سب صدقہ دے چاہے سب کسی کے حوالے کردے، تو یہ اذن لینا لغو ہوا، اور وارثوں کا اذن دینا بھی اپنے وقت سے پیشتر ہوا، اس واسطے ان کو رجوع درست ہے، بلکہ اذن لینا اس وقت درست ہے جب وہ اپنے مال میں اختیار نہ رکھتا ہو اور تہائی سے زیادہ صرف کرنے پر قادر نہ ہو، اس وقت وارثوں کو دو تہائی کا اختیار ہوگا، وہ اجازت بھی دے سکتے ہیں، اگر مریض نے اپنے وارث سے کہا: تو اپنا حصّہ میراث کا مجھے ہبہ کردے، اس نے ہبہ کردیا، لیکن مریض نے اس میں کچھ تصرف نہیں کیا، یوں ہی مر گیا، تو وہ حصّہ پھر اسی وارث کا ہو جائے گا، البتہ اگر میت یوں کہے ایک وارث سے کہ فلاں وارث بہت ضعیف ہے، تو بھی اپنا حصّہ اس کو ہبہ کردے، اور اگر وہ ہبہ کردے تو درست ہو جائے گا، اگر وارث نے اپنا حصّہ میراث میّت کو ہبہ کر دیا، اس نے کچھ اس میں سے کسی کو دلایا، کچھ بچ رہا، تو جو بچ رہا وہ اسی وارث کا ہو گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1472Q7]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1472Q7]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 37 - كِتَابُ الْوَصِيَّةِ-ح: 4ق2»
حدیث نمبر: 1472Q8
قَالَ مَالِكٌ: فِيمَنْ أَوْصَى بِوَصِيَّةٍ فَذَكَرَ أَنَّهُ قَدْ كَانَ أَعْطَى بَعْضَ وَرَثَتِهِ شَيْئًا لَمْ يَقْبِضْهُ فَأَبَى الْوَرَثَةُ أَنْ يُجِيزُوا ذَلِكَ فَإِنَّ ذَلِكَ يَرْجِعُ إِلَى الْوَرَثَةِ مِيرَاثًا عَلَى كِتَابِ اللّٰهِ لِأَنَّ الْمَيِّتَ لَمْ يُرِدْ أَنْ يَقَعَ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فِي ثُلُثِهِ وَلَا يُحَاصُّ أَهْلُ الْوَصَايَا فِي ثُلُثِهِ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس شخص نے وصیت کی، بعد اس کے معلوم ہوا کہ اس نے اپنے ایک وارث کو کچھ دیا تھا جس پر اس نے قبضہ نہیں کیا، اور ورثاء نے اس کی اجازت سے انکار کیا، تو وہ ورثاء کا حق ہو جائے گا، اور کتاب اللہ کے موافق تقسیم ہوگا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1472Q8]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 37 - كِتَابُ الْوَصِيَّةِ-ح: 4ق2»
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 37 - كِتَابُ الْوَصِيَّةِ-ح: 4ق2»
عامر بن سعد القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري