یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب دية الخطأ فى القتل
قتل خطاء کی دیت کا بیان
حدیث نمبر: 1499
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، وَرَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كَانُوا يَقُولُونَ: " دِيَةُ الْخَطَإِ عِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ ابْنَ لَبُونٍ ذَكَرًا، وَعِشْرُونَ حِقَّةً، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً" .
ابن شہاب اور سلیمان بن یسار اور ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن کہتے ہیں: قتلِ خطاء کی دیت بیس بنت مخاض، اور بیس بنت لبون، اور بیس ابن لبون، اور بیس حقے، اور بیس جذعے ہیں۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1499]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1499]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16250، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4884، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17214، 17230، 17232، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 4ق1»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥ربيعة الرأي، أبو عثمان، أبو عبد الرحمن | ثقة | |
👤←👥سليمان بن يسار الهلالي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو أيوب سليمان بن يسار الهلالي ← ربيعة الرأي | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سليمان بن يسار الهلالي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه |
حدیث نمبر: 1499B1
قَالَ مَالِك: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا: أَنَّهُ لَا قَوَدَ بَيْنَ الصِّبْيَانِ، وَإِنَّ عَمْدَهُمْ خَطَأٌ مَا لَمْ تَجِبْ عَلَيْهِمُ الْحُدُودُ وَيَبْلُغُوا الْحُلُمَ، وَإِنَّ قَتْلَ الصَّبِيِّ لَا يَكُونُ إِلَّا خَطَأً، وَذَلِكَ لَوْ أَنَّ صَبِيًّا وَكَبِيرًا قَتَلَا رَجُلًا حُرًّا خَطَأً كَانَ عَلَى عَاقِلَةِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصْفُ الدِّيَةِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ نابالغ لڑکوں سے قصاص نہ لیا جائے گا، اگر وہ کوئی جنایت قصداً بھی کریں تو خطاء کے حکم میں ہوگی، ان سے دیت لی جائے گی جب تک کہ بالغ نہ ہوں، اور جب تک ان پر حدیں واجب نہ ہوں، اور احتلام نہ ہونے لگے، اسی واسطے اگر لڑکا کسی کو قتل کرے تو وہ قتلِ خطاء سمجھا جائے گا، اگر لڑکا اور ایک بالغ مل کر کسی کو خطاءً قتل کریں تو ہر ایک کے عاقلے پر آدھی دیت ہوگی۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1499B1]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1499B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 4ق1»
حدیث نمبر: 1499B2
قَالَ مَالِك: وَمَنْ قُتِلَ خَطَأً فَإِنَّمَا عَقْلُهُ مَالٌ لَا قَوَدَ فِيهِ، وَإِنَّمَا هُوَ كَغَيْرِهِ مِنْ مَالِهِ يُقْضَى بِهِ دَيْنُهُ وَتَجُوزُ فِيهِ وَصِيَّتُهُ، فَإِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ تَكُونُ الدِّيَةُ قَدْرَ ثُلُثِهِ ثُمَّ عَفَا عَنْ دِيَتِهِ فَذَلِكَ جَائِزٌ لَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُ دِيَتِهِ جَازَ لَهُ مِنْ ذَلِكَ الثُّلُثُ إِذَا عَفَا عَنْهُ وَأَوْصَى بِهِ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص خطاءً قتل کیا جائے، اس کی دیت مثل اس کے اور اس کے مال کے ہوگی، اس سے اس کا قرض ادا کیا جائے گا، اور اس کی وصیتیں پوری کی جائیں گی، اگر اس کے پاس اتنا مال ہو جو دیت سے دوگنا ہو اور وہ دیت معاف کر دے تو درست ہے، اور اگر اتنا مال نہ ہو تو تہائی کے موافق معاف کر سکتا ہے، کیونکہ باقی وارثوں کا بھی حق ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1499B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 4ق1»
Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 1499 in Urdu
سليمان بن يسار الهلالي ← ربيعة الرأي