موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما جاء فى الرجم
رجم (سنگسار) کرنے کے بیان میں
حدیث نمبر: 1550
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ وَلَدَتْ فِي سِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُرْجَمَ، فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: " لَيْسَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلاثُونَ شَهْرًا سورة الأحقاف آية 15، وَقَالَ: وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ سورة البقرة آية 233، فَالْحَمْلُ يَكُونُ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَا رَجْمَ عَلَيْهَا". فَبَعَثَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فِي أَثَرِهَا، فَوَجَدَهَا قَدْ رُجِمَتْ
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت آئی جس کا بچہ چھ مہینے میں پیدا ہوا تھا، آپ نے اس کے رجم کا حکم کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس پر رجم نہیں ہو سکتا، اللہ جل جلالہُ فرماتا ہے اپنی کتاب میں: ”آدمی کا حمل اور دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہوتا ہے۔“ اور دوسری جگہ فرماتا ہے: ”مائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس دودھ پلائیں، جو شخص رضاعت کو پورا کرنا چاہے۔“ تو حمل کے چھ مہینے ہوئے اس وجہ سے رجم نہیں ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر لوگوں کو بھیجا اس عورت کے پیچھے (تاکہ اس کو رجم نہ کریں)، دیکھا تو وہ رجم ہو چکی تھی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1550]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17035، 17059، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13441، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 4855، 4856، فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 11»
Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 1550 in Urdu