🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب جامع ما جاء فى الطعام والشراب
کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1699
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ لَا يُؤْتَى أَبَدًا بِطَعَامٍ وَلَا شَرَابٍ حَتَّى الدَّوَاءُ فَيَطْعَمَهُ أَوْ يَشْرَبَهُ، إِلَّا قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا وَأَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَنَعَّمَنَا اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ أَلْفَتْنَا نِعْمَتُكَ بِكُلِّ شَرٍّ فَأَصْبَحْنَا مِنْهَا، وَأَمْسَيْنَا بِكُلِّ خَيْرٍ فَنَسْأَلُكَ تَمَامَهَا وَشُكْرَهَا، لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ إِلَهَ الصَّالِحِينَ وَرَبَّ الْعَالَمِينَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ" .
حضرت عروہ بن زبیر کے سامنے جب کوئی کھانے پینے کی چیز آتی یہاں تک کہ دوا بھی تو اس کو کھاتے پیتے اور کہتے: سب خوبیاں اسی پروردگار کو لائق ہیں جس نے ہم کو ہدایت کی، اور کھلایا، اور پلایا، اور نعمتیں عطا فرمائیں، وہ اللہ بڑا ہے، اے پروردگار! تیری نعمت اس وقت آئی جب ہم سراسر برائی میں مصروف تھے، ہم نے صبح کی اور شام کی اس نعمت کی وجہ سے اچھی طرح، ہم چاہتے ہیں تو پورا کرے اس نعمت کو، اور ہمیں شکر کی توفیق دے، سوائے تیری بہتری کے کہیں بہتری نہیں ہے، کوئی معبود برحق نہیں سوائے تیرے۔ اے پروردگار نیکوں کے، اور پالنے والے سارے جہاں کے، سب خوبیاں اللہ کو زیبا ہیں، کوئی سچا معبود نہیں سوائے اس کے، جو چاہتا ہے اللہ وہی ہوتا ہے، کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے، یا اللہ برکت دے ہماری روزی میں، اور بچا ہم کو دوزخ کے عذاب سے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1699]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24502، 29559، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 34»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد اللهثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1699B1
قَالَ يَحْيَى: سُئِلَ مَالِك هَلْ تَأْكُلُ الْمَرْأَةُ مَعَ غَيْرِ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا أَوْ مَعَ غُلَامِهَا؟ فَقَالَ مَالِك: لَيْسَ بِذَلِكَ بَأْسٌ، إِذَا كَانَ ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ مَا يُعْرَفُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَأْكُلَ مَعَهُ مِنَ الرِّجَالِ، قَالَ: وَقَدْ تَأْكُلُ الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا، وَمَعَ غَيْرِهِ مِمَّنْ يُؤَاكِلُهُ، أَوْ مَعَ أَخِيهَا عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ، وَيُكْرَهُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَخْلُوَ مَعَ الرَّجُلِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا حُرْمَةٌ
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ اگر عورت غیر محرم مرد یا اپنے غلام کے ساتھ کھانا کھائے تو کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: کچھ قباحت نہیں ہے جب کہ عزت کے موافق ہو (یعنی ایسی صورت ہو جو اس عورت کے لیے بہتر ہو) اور وہ یہ کہ اس جگہ اور لوگ بھی ہوں، اور کہا کہ عورت بھی اپنے خاوند کے ساتھ کھاتی ہے، کبھی غیر کے ساتھ جس کو خاوند کھانا کھلایا کرتا ہے، کبھی بھائی کے ساتھ، اور مکروہ ہے عورت کو خلوت کرنا غیر محرم کے ساتھ۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1699B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 35»

Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 1699 in Urdu