🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب ما جاء فى السلام على اليهودي والنصراني
یہودی اور نصرانی کے سلام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1752
حَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ " الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ، فَإِنَّمَا يَقُولُ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقُلْ: عَلَيْكَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودی جب تم کو سلام کرتے ہیں تو السلام علیکم کے بدلے السام علیکم (یعنی موت ہو تم پر) کہتے ہیں، تم بھی علیک کہا کرو۔ (یعنی جواب میں صرف علیک کہدیا کرو یعنی تو ہی مرے)۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1752]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6257، 6928، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2164، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 502، والنسائی فى «الكبریٰ» برقم: 10138، 10139، 10140، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5206، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1603، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2677، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18789، 18790، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4699، والحميدي فى «مسنده» برقم: 671، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9840، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 26276، فواد عبدالباقي نمبر: 53 - كِتَابُ السَّلَامَ-ح: 3»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن دينار القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1752B1
قَالَ يَحْيَى: وَسُئِلَ مَالِك عَمَّنْ سَلَّمَ عَلَى الْيَهُودِيِّ أَوِ النَّصْرَانِيِّ هَلْ يَسْتَقِيلُهُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: لَا
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ یہودی اور نصرانی سے کوئی سلام کرے یعنی السلام وعلیکم کہہ دے تو پھر اس کو فسخ کرے؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ توبہ اور استغفار کرے، کیونکہ خلاف حکم کیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1752B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 53 - كِتَابُ السَّلَامَ-ح: 3»

Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 1752 in Urdu