🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. باب ما جاء فى الحجامة وأجرة الحجام
پچھنے لگانا اور اس کی مزدوری کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1784
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ مُحَيِّصَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ عَنْهَا، فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ وَيَسْتَأْذِنُهُ، حَتَّى قَالَ: " اعْلِفْهُ نُضَّاحَكَ" يَعْنِي رَقِيقَكَ
سیدنا ابن محیصہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حجام کی اجرت کو اپنے خرچ میں لانا کیسا ہے؟ (کیونکہ ان کے غلام ابو طیبہ حجام تھے وہ چاہتے تھے اس کی کمائی کھائیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا (مگر یہ ممانعت تنزیہاً ہے اکثر علماء کے نزدیک)۔ وہ ہمیشہ پوچھا کر تے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگتے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی کمائی اپنے اونٹوں اور غلاموں کی خوراک میں صرف کر۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1784]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح لغيره، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5154، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24090، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 4658، وله شواهد من حديث محيصة بن مسعود بن كعب الخزرجي، فأما حديث محيصة بن مسعود بن كعب الخزرجي، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 3422، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1277، والحميدي فى «مسنده» برقم: 902، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2166، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24179، فواد عبدالباقي نمبر: 54 - كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ-ح: 28»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حرام بن محيصة الأنصاري، أبو سعيد، أبو سعدثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← حرام بن محيصة الأنصاري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه