🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب ما جاء فى دلوك الشمس و غسق الليل
«دلوکِ شمس» اور «غسق الليل» کے متعلق جو وارد ہے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ: " دُلُوكُ الشَّمْسِ مَيْلُهَا"
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ «دلوك الشمّس» سے آفتاب کا ڈھلنا مراد ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 18]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 18، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1678،1704،1708، 1734، والبزار فى «مسنده» برقم: 6015، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 2052، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 6330، 6335، شركة الحروف نمبر: 16، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 19» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اس روایت کو صحیح کہا ہے اور اس کی سند شیخین کی شرط پر ہے۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
موطا امام مالك رواية يحييٰ کی حدیث نمبر 18 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافظ ابو سمیعہ محمود تبسم، فوائد، موطا امام مالک : 18
«دُلُوكِ شمس» (سورج کے ڈھلنے) اور «غَسَقُ اللَّيْل» (رات کے اندھیرے) کی تفسیر میں آنے والے اقوال کا بیان:
فائدہ:
اس باب میں امام مالک رحمہ اللہ اس آیتِ مبارکہ کے متعلق کچھ تفسیری اقوال ذکر کر رہے ہیں جس میں بڑے اختصار اور جامعیت کے ساتھ اوقاتِ نماز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، آیت یہ ہے:
«اَقِمِ الصَّلاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غسَلق اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ» [بنى اسرائيل 17: 78]
سورج ڈھلنے سے لے کر رات کے اندھیرے تک نماز قائم کیجیے اور نمازِ فجر بھی۔
اس آیت مبارکہ میں سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک میں چار نمازوں کی طرف اشارہ اور اکٹھا تذکرہ ہے، کیونکہ فجر کے علاوہ باقی چاروں نمازوں کے اوقات ایک دوسرے سے متصل ہیں، ایک نماز کا وقت ختم ہوتے ہی دوسری کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور یہ سلسلہ نصف رات تک جاری رہتا ہے اور چونکہ نماز فجر کا وقت کسی دوسری نماز کے ساتھ متصل نہیں ہے، نہ پہلے اور نہ بعد میں، اس لیے اللہ تعالی نے اس کا تذکرہ بھی الگ فرمایا، اور پھر چونکہ یہ نماز لمبی قراءت کے ساتھ ممتاز ہے اس لیے اس نماز کا نام ہی قرآن (بمعنی قراءت) رکھ دیا اور «صلاة الفجر» کہنے کی بجائے «قرآن الفجر» کے نام سے ذکر فرمایا ہے۔
[موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 18]