موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. باب ما جاء فى عذاب العامة بعمل الخاصة
چند آدمیوں کے گناہ کی وجہ سے ساری خلقت کے تباہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1826
حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ " إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ"
اُم المؤمنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم اس وقت بھی تباہ ہوں گے جب ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! جب گناہ بہت ہونے لگیں۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1826]
تخریج الحدیث: «مرفوع ضعيف،
یہ سند منقطع ہے اور یہ روایت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہی نہیں ہے، البتہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے۔ دیکھئے: بخاری: 3346، مسلم: 2880، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 22»
یہ سند منقطع ہے اور یہ روایت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہی نہیں ہے، البتہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے۔ دیکھئے: بخاری: 3346، مسلم: 2880، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 22»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمة | صحابية |