موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. باب القول إذا سمعت الرعد
بادل گرجنے کے وقت کیا کہنا چاہیے
حدیث نمبر: 1830
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ تَرَكَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: " سُبْحَانَ الَّذِي يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: إِنَّ هَذَا لَوَعِيدٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ شَدِيدٌ"
حضرت عامر بن عبداللہ بن زبیر جب گرج کی آواز سنتے تو بات کرنا چھوڑ دیتے اور کہتے: پاک ہے وہ ذات جس کی پاکی بیان کرتا ہے رعد (ایک فرشتہ ہے جو مقرر ہے ابر (بادل) پر، اس کی آواز ہے جو گرج معلوم ہوتی ہے)، اور بیان کرتے ہیں فرشتے پاکی اس کی اس کے ڈر سے۔ پھر کہتے تھے: یہ آواز زمین کے رہنے والوں کے واسطے سخت وعید ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1830]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6563، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29205، بخاري فى «الادب المفرد» برقم: 723، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 26»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عامر بن عبد الله القرشي، أبو الحارث | ثقة |