موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب جامع الوضوء
اس باب میں مختلف مسائل طہارت کے مذکور ہیں
حدیث نمبر: 63
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يُسْأَلُ عَنِ الْوُضُوءِ مِنَ الْغَائِطِ بِالْمَاءِ، فَقَالَ سَعِيدٌ: " إِنَّمَا ذَلِكَ وُضُوءُ النِّسَاءِ"
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت سعید بن مسیّب سوال کیے گئے بعد پاخانے کے پانی لینے سے، تو کہا کہ یہ طہارت عورتوں کی ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 63]
تخریج الحدیث: «صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، شركة الحروف نمبر: 59، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 34» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اس روایت کو صحیح کہا۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد يحيى بن سعيد الأنصاري ← سعيد بن المسيب القرشي | ثقة ثبت |
موطا امام مالك رواية يحييٰ کی حدیث نمبر 63 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافظ ابو سمیعہ محمود تبسم، فوائد، موطا امام مالک : 63
فائدہ:
اس جواب کے دو مفہوم ممکن ہیں، ایک یہ کہ عام طور پر عورتیں استنجاء کرتے وقت پانی استعمال کرتی ہیں، جبکہ مردوں کا عام معمول ڈھیلے استعمال کرتا ہے، دوسرا مفہوم یہ ہے کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ بھی مردوں کے لیے پانی سے استنجاء کرنا معیوب و مکروہ سمجھتے تھے جیسا کہ حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت اِبن عمر اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہم سے بھی یہی بات منقول ہے، لیکن امام مالک رحمہ اللہ اور تمام مسالک کے جمہور فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ پانی سے استنجاء کرنا صرف جائز ہی نہیں بلکہ افضل بھی ہے، کیونکہ متعدد احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عمل ثابت ہے۔
[ديكهيے گزشته روايت: 35، اور اس كا فائده]
[موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 63]
يحيى بن سعيد الأنصاري ← سعيد بن المسيب القرشي