علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب ما ينهى عنه من لبس الثياب فى الإحرام
جن کپڑوں کا احرام میں پہننا ممنوع ہے ان کا بیان
حدیث نمبر: 711
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”نہ پہنو قمیص، اور نہ باندھو عمامہ، اور نہ پہنو پائجامہ، اور نہ ٹوپی، اور نہ موزہ، مگر جس کو چپل نہ ملے تو وہ اپنے موزوں کو پہن لے، اور ان کو کاٹ ڈالے اس طرح کہ ٹخنے کھلے رہیں، اور نہ پہنو اُن کپڑوں کو جن میں زعفران لگی ہو اور وَرس۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 711]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1542، 1838، 1842، 5794، 5802، 5805، 5806، 5847، 5852، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1177، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2597، 2598، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3761، 3782، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1794، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2667، 2668، 2670، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3632، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1823،،، 1826، 1827، والترمذي فى «جامعه» برقم: 833، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1839، 1841، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2929، 2930، 2932، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1369، 9131، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4540، 4542، والحميدي فى «مسنده» برقم: 639، 640، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 8»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور |
حدیث نمبر: 711B
قَالَ يَحْيَى: سُئِلَ مَالِك عَمَّا ذُكِرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ" فَقَالَ: لَمْ أَسْمَعْ بِهَذَا، وَلَا أَرَى أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ سَرَاوِيلَ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ السَّرَاوِيلَاتِ، فِيمَا نَهَى عَنْهُ مِنْ لُبْسِ الثِّيَابِ الَّتِي لَا يَنْبَغِي لِلْمُحْرِمِ أَنْ يَلْبَسَهَا، وَلَمْ يَسْتَثْنِ فِيهَا كَمَا اسْتَثْنَى فِي الْخُفَّيْنِ
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ یہ جو حدیث مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے: ”جو شخص تہبند نہ پائے تو وہ پائجامہ پہن لے“، کیا پائجامہ پہن لینا درست ہے جب تہبند نہ ملے؟ تو جواب دیا امام مالک رحمہ اللہ نے: میں نے اس حدیث کو نہیں سنا، اور میرے نزدیک محرم کو پائجامہ پہننا نہ چاہیے، اس واسطے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا پائجامہ پہننے سے، اور اس کو استثناء نہ کیا جیساکہ موزوں کو استثناء کیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 711B]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح:8ق»
Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 711 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي