🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب ما جاء فى المسح على الخفين
موزوں پر مسح کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 72
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " بَالَ فِي السُّوقِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ رَأْسَهُ، ثُمَّ دُعِيَ لِجَنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا حِينَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا"
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پیشاب کیا بازار میں، پھر وضو کیا اور دھویا منہ اور ہاتھوں کو اپنے، اور مسح کیا سر پر، پھر بلائے گئے جنازہ کی نماز کے لیے، جب جا چکے مسجد میں تو مسح کیا موزوں پر، پھر نماز پڑھی جنازہ پر۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 72]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 398، شركة الحروف نمبر: 66، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 43» شیخ سلیم ہلالی، امام بیہقی رحمہ اللہ اور امام نو وی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
موطا امام مالك رواية يحييٰ کی حدیث نمبر 72 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافظ ابو سمیعہ محمود تبسم، فوائد، موطا امام مالک : 72
فائدہ: مسجد نبوی بازار کے قریب ہی تھی، ممکن ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما موزوں پر مسح کرنا بھول گئے ہوں یا کسی عذر کی بنا پر جھک نہ سکتے ہوں، اس لیے انھوں نے مسجد میں آ کر مسح کیا، بہر حال امام احمد رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ اور اہل حدیث کے ہاں اعضائے وضو میں «موالاة» یعنی پے در پے دھونا اور مسح کرنا واجب ہے اور مسح کو مؤخر کرنا جائز نہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی «موالاة» ثابت ہے، یاد رہے کہ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک اگر آدمی بھول جائے تو پھر موالاة ساقط ہو جاتی ہے۔ موالات سے مراد یہ ہے کہ اعضائے وضو کو دھونے یا مسح کرنے کے دوران اتنا وقفہ نہ کیا جائے کہ پہلے دھوئے ہوئے اعضاء خشک ہو جائیں۔
[موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 72]