موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب العمل فى المسح على الخفين
موزوں کے مسح کی ترکیب کا بیان
حدیث نمبر: 75
عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ كَيْفَ هُوَ؟ فَأَدْخَلَ ابْنُ شِهَابٍ إِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ الْخُفِّ وَالأُخْرَى فَوْقَهُ ثُمَّ أَمَرَّهُمَا. قَالَ مَالِكٌ وَقَوْلُ ابْنِ شِهَابٍ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ. قَالَ يَحْيَى: قَالَ مَالِك: وَقَوْلُ ابْنِ شِهَابٍ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا کہ وہ کس طرح ہوتا ہے؟ تو ابن شہاب رحمہ اللہ نے اپنا ایک ہاتھ موزے کے نیچے رکھا اور دوسرا اوپر، پھر ان دونوں کو (موزے پر پھیرتے ہوئے) گزار دیا۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن شہاب رحمہ اللہ کا قول مجھے ان تمام اقوال سے زیادہ پسند ہے جو میں نے اس مسئلے میں سنے ہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 75]
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن شہاب رحمہ اللہ کا قول مجھے ان تمام اقوال سے زیادہ پسند ہے جو میں نے اس مسئلے میں سنے ہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 75]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه الأم للشافعي برقم: 226/7، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 854، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1402، شركة الحروف نمبر: 69، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 45ب» شیخ سلیم ہلالی اور حامد احمد ظاہر نے کہا کہ اس کی سند صحیح ہے۔