🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب ما استيسر من الهدي
موافق طاقت کے ہدی کیا چیز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 866
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَقُولُ: " مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ: شَاةٌ" .
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: « ﴿مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ » سے ایک بکری مراد ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 866]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح لغيره، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8896، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 301، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 159»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 866B1
قَالَ مَالِك: وَذَلِكَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ، لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ، يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ، أَوْ عَدْلُ ذَلِكَ صِيَامًا، فَمِمَّا يُحْكَمُ بِهِ فِي الْهَدْيِ شَاةٌ، وَقَدْ سَمَّاهَا اللَّهُ هَدْيًا، وَذَلِكَ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا، وَكَيْفَ يَشُكُّ أَحَدٌ فِي ذَلِكَ؟ وَكُلُّ شَيْءٍ لَا يَبْلُغُ أَنْ يُحْكَمَ فِيهِ بِبَعِيرٍ أَوْ بَقَرَةٍ، فَالْحُكْمُ فِيهِ شَاةٌ، وَمَا لَا يَبْلُغُ أَنْ يُحْكَمَ فِيهِ بِشَاةٍ فَهُوَ كَفَّارَةٌ مِنْ صِيَامٍ، أَوْ إِطْعَامِ مَسَاكِينَ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھے یہ روایت بہت پسند ہے، کیونکہ اللہ جل جلالہُ فرماتا ہے اپنی کتاب میں: اے ایمان والو! مت مارو شکار جب تم احرام باندھے ہو، اور جو مارے شکار تم میں سے قصداً تو اس پر جزاء ہے مثل اس جانور کے جو مارا اس نے۔ حکم لگا دیں اس کا دو مرد دیانت دار تم میں سے، یہ جزاء ہدی ہو جو خانۂ کعبہ میں پہنچے، یا کفارہ ہو مسکینوں کا کھلانا، یا برابر اس کے روزے، تاکہ چکھے وبال اپنے کام کا۔ سو کبھی جانور کا بدلہ بکری بھی ہوتی ہے، اور اللہ جل جلالہُ نے اسی کو ہدی کہا۔ اس مسئلہ میں ہمارے نزدیک کچھ اختلاف نہیں ہے، اور کیونکر کوئی اس میں شک کرے گا، اس واسطے کہ جو جانور اونٹ یا بیل کے برابر نہیں اس کی جزاء ایک بکری ہی ہو گی، اور جو ایک بکری سے کم ہو تو اس میں کفارہ ہو گا، روزے رکھے یا مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 866B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 159»