موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. باب ما استيسر من الهدي
موافق طاقت کے ہدی کیا چیز ہے
حدیث نمبر: 868
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ مَوْلَاةً لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُقَالُ لَهَا رُقَيَّةُ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا خَرَجَتْ مَعَ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى مَكَّةَ، قَالَتْ: فَدَخَلَتْ عَمْرَةُ مَكَّةَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَأَنَا مَعَهَا، فَطَافَتْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ دَخَلَتْ صُفَّةَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَتْ: " أَمَعَكِ مِقَصَّانِ؟" فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَتْ:" فَالْتَمِسِيهِ لِي" فَالْتَمَسْتُهُ حَتَّى جِئْتُ بِهِ، فَأَخَذَتْ مِنْ قُرُونِ رَأْسِهَا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ ذَبَحَتْ شَاةً
حضرت عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے، کہا ایک آزاد لونڈی عمرہ بنت عبدالرحمٰن کی جس کا نام رقیہ تھا، مجھ سے کہتی تھی کہ میں نکلی عمرہ بنت عبدالرحمٰن کے ساتھ مکہ کو، تو آٹھویں تاریخ ذی الحجہ کی عمرہ مکہ میں پہنچیں اور میں بھی ان کے ساتھ تھی، تو طواف کیا خانۂ کعبہ کا اور سعی کی درمیان میں صفا اور مروہ کے، پھر عمرہ مسجد کے اندر گئیں اور مجھ سے کہا کہ تیرے پاس قینچی ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ عمرہ نے کہا: کہیں سے ڈھونڈ کر لا۔ سو میں ڈھونڈ کر لائی، عمرہ نے اپنی لٹیں بالوں کی اس سے کاٹیں، جب یوم النحر ہوا تو ایک بکری ذبح کی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 868]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 161»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن أبي بكر الأنصاري، أبو محمد، أبو بكر عبد الله بن أبي بكر الأنصاري ← عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية | ثقة ثبت |
عبد الله بن أبي بكر الأنصاري ← عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية