مسند عبدالله بن مبارك سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث نمبر: 260
حدیث نمبر: 260
أنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، كَيْفَ تَفْعَلُ إِذَا جَاعَ النَّاسُ حَتَّى لا تَسْتَطِيعَ أَنْ تَقُومَ مِنْ فِرَاشِكَ إِلَى مَسْجِدِكَ، وَمِنْ مَسْجِدِكَ إِلَى فِرَاشِكَ؟" فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ:" تَعَفَّفْ"، ثُمَّ قَالَ:" كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا مَاتَ النَّاسُ حَتَّى يَكُونَ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْوَصِيفِ؟" فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" تَصْبِرْ"، ثُمَّ قَالَ:" كَيْفَ تَعْمَلُ إِذَا اقْتَتَلَ النَّاسُ حَتَّى يَغْرَقَ حَجَرُ الزَّيْتِ؟" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" تَأْتِي مَنْ أَنْتَ مِنْهُ"، فَقُلْتُ: إِذَا رَأَيْتَ أَنْ أَتَى عَلَيَّ؟ فَقَالَ:" تَدْخُلْ بَيْتَكَ"، فَقُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ أَتَى عَلَيَّ؟ قَالَ:" إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ، فَأَلْقِ طَائِفَةَ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ"، فَقُلْتُ: أَفَلا أَحْمِلُ السِّلاحَ؟ فَقَالَ:" إِذًا تُشْرِكُهُ".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے فرمایا: ”اے ابوذر! تو کیسے کرے گا جب لوگ بھوکے ہوں گے۔ یہاں تک کہ تو طاقت نہ رکھے گا کہ اپنے بستر سے اپنی مسجد کی طرف اور اپنی مسجد سے اپنے بستر کی طرف کھڑا ہو سکے؟“ میں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاک دامنی اختیار کرنا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیسے کرے گا، جب لوگ مر جائیں گے، یہاں تک کہ گھر نوکر کے ساتھ ہوگا؟“ میں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر کرنا،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیسے عمل کرے گا، جب لوگ باہم لڑائی کریں گے حتیٰ کہ بھیڑئیے کا بل پہچانا جائے گا؟“ میں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو آنا جس سے تو ہے۔“ میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے کہ اگر مجھ پر آیا گیا ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر میں داخل ہو جانا۔“ میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال ہے کہ اگر مجھ پر آیا گیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو ڈرے کہ تلوار کی چمک تجھ پر غالب آجائے گی تو اپنی چادر کا کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لینا، وہ تیرے گناہ اور اپنے گناہ کے ساتھ لوٹے گا۔“ میں نے کہا کہ کیا میں اسلحہ نہ اٹھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو اس کا شریک بن جائے گا۔“ [مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 260]
تخریج الحدیث: «صحیح ابن حبان (الموارد)460، مسند احمد (الفتح الرباني)24/14، مستدرك حاکم: 4/423، 424، 2/57، حلیة الأولیاء، ابونعیم: 8/2، سنن ابوداؤد: 4261۔ محدث البانی نے اسے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔»
الحكم على الحديث: صحیح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذر | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن الصامت الغفاري، أبو النضر عبد الله بن الصامت الغفاري ← أبو ذر الغفاري | ثقة | |
👤←👥عبد الملك بن حبيب الأسدي، أبو عمران عبد الملك بن حبيب الأسدي ← عبد الله بن الصامت الغفاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← عبد الملك بن حبيب الأسدي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد |
عبد الله بن الصامت الغفاري ← أبو ذر الغفاري