🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
94. المؤمن من أهل الإيمان بمنزلة الرأس من الجسد
مومن کا اہل ایمان سے وہی تعلق ہے جو سر کا جسم سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 136
136 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ، يَأْلَمُ الْمُؤْمِنُ لِمَا يُصِيبُ أَهْلَ الْإِيمَانِ كَمَا يَأْلَمُ الرَّأْسُ لِمَا يُصِيبُ الْجَسَدَ»
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کا اہل ایمان سے وہی تعلق ہے جو سر کا جسم سے ہے، مؤمن اہل ایمان کی تکلیف سے اسی طرح تڑپ اٹھتا ہے جس طرح جسم کی تکلیف سے سر تڑپتا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 136]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه المعجم الاوسط: 4696، وأحمد: 5/ 340»
وضاحت: تشریح:
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان (آپس میں) ایک شخص کی مانند ہیں، اگر اس کی آنکھ میں تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے اور اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔ [أخرجه مسلم: 2586]
یعنی جس طرح بدن کا کوئی عضو جب دکھتا ہے تو اس سے سارا بدن متاثر ہوتا ہے اور محض ایک عضو میں تکلیف ہونے سے پورا جسم تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے اسی طرح مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ ایک جسم کی مانند ہو جائیں کہ اگر کسی مسلمان کو کوئی گزند پہنچے تو سارے مسلمان اس کے دکھ میں شریک ہوں اور سب مل کر اس کی پریشانی و مصیبت کو دور کرنے کی تدبیر کریں۔