مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. المستشار مؤتمن
جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہوتا ہے
حدیث نمبر: 4
4 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ دَنُوقَا الْجَمَّالُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَلْخِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ، فَإِنْ شَاءَ أَشَارَ وَإِنْ شَاءَ سَكَتَ، فَإِنْ أَشَارَ فَلْيُشِرْ بِمَا لَوْ نَزَلَ بِهِ فَعَلَهُ»
سیدہ سمرہ بنت جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے لہٰذا اگر وہ چاہے تو مشورہ دے اور اگر چاہے تو خاموش رہے پھر اگر وہ مشورہ دے تو اسے چاہیے کہ ایسا مشورہ دے کہ اگر وہ (صورت) خود اسے پیش آتی تو وہ اس پر عمل کرتا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 4]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، العزلة للخطابي109-السلسلة الضعيفة: 4676» ۔ اسماعیل بن مسلم اور حسن بن محمد ابومحمد بھی ضعیف ہیں۔