سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
194. باب حَذْفِ التَّسْلِيمِ
باب: سلام کو کھینچ کر نہ کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1004
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ". قَالَ عِيسَى: نَهَانِي ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ رَفْعِ هَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَبَا عُمَيْرٍ عِيسَى بْنَ يُونُسَ الْفَاخُورِيَّ الرَّمْلِيَّ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ الْفِرْيَابِيُّ مِنْ مَكَّةَ تَرَكَ رَفْعَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ: نَهَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ رَفْعِهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلام کو کھینچ کر لمبا نہ کرنا سنت ہے“۔ عیسیٰ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے مجھے اس حدیث کو مرفوع کرنے سے منع کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ابوعمیر عیسیٰ بن یونس فاخری رملی سے سنا ہے انہوں نے کہا ہے کہ جب فریابی مکہ مکرمہ سے واپس آئے تو انہوں نے اس حدیث کو مرفوع کہنا ترک کر دیا اور کہا: احمد بن حنبل نے انہیں اس حدیث کو مرفوع روایت کرنے سے منع کر دیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1004]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلام کو لمبا کیے بغیر کہنا سنت ہے۔“ عیسیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”جناب ابن مبارک رحمہ اللہ نے مجھے اس حدیث کو مرفوع بیان کرنے سے منع فرمایا تھا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے ابو عمیر عیسیٰ بن یونس فاخوری رملی کو سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ فریابی جب مکہ سے واپس لوٹے تو انہوں نے اس حدیث کو مرفوع بیان کرنا چھوڑ دیا تھا اور کہا: مجھے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس حدیث کو مرفوع بیان کرنے سے روکا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1004]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 111 (297)، (تحفة الأشراف: 15233)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/532) (ضعیف)» (اس کے راوی ’’قرة‘‘ کی ثقاہت میں کلام ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (297)
الزهري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 48
إسناده ضعيف
ترمذي (297)
الزهري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 48
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1004
| حذف السلام سنة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1004 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1004
1004۔ اردو حاشیہ:
اس کا مفہوم یہ ہے کہ سلام کو مد کے ساتھ لمبا کر کے نہ کہا جائے بلکہ درمیانی انداز سے کہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔
اس کا مفہوم یہ ہے کہ سلام کو مد کے ساتھ لمبا کر کے نہ کہا جائے بلکہ درمیانی انداز سے کہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1004]
Sunan Abi Dawud Hadith 1004 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي