یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
197. باب السهو في السجدتين
باب: سجدہ سہو کا بیان۔
حدیث نمبر: 1011
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٍ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، وَابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ،" أَنَّهُ كَبَّرَ وَسَجَدَ، وَقَالَ هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ كَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ،وَحُمَيْدٌ، وَيُونُسُ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَا ذَكَرَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ،" أَنَّهُ كَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ". وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ هِشَامٍ، لَمْ يَذْكُرَا عَنْهُ هَذَا الَّذِي ذَكَرَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ" أَنَّهُ كَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالیدین کے قصہ میں روایت کی ہے کہ آپ نے «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا، ہشام بن حسان کی روایت میں ہے کہ آپ نے «الله أكبر» کہا پھر «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حبیب بن شہید، حمید، یونس اور عاصم احول نے بھی محمد بن سیرین کے واسطہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی نے بھی اس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے بواسطہ ہشام کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا، پھر «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا، حماد بن سلمہ اور ابوبکر بن عیاش نے بھی اس حدیث کو بواسطہ ہشام روایت کیا ہے مگر ان دونوں نے بھی ان کے واسطہ سے اس کا ذکر نہیں کیا ہے جس کا حماد بن زید نے ذکر کیا ہے کہ آپ نے «الله أكبر» کہا پھر «الله أكبر» کہا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1011]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالیدین کے قصے میں بیان کرتے ہیں کہ ”آپ نے تکبیر کہی اور سجدہ کیا۔“ جبکہ ہشام بن حسان نے روایت کیا کہ ”آپ نے تکبیر کہی (یعنی تحریمہ) پھر «اللهُ أَكْبَرُ» کہا اور سجدہ کیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اس حدیث کو حبیب بن شہید، حمید، یونس اور عاصم احول (چاروں) نے محمد بن سیرین سے اور وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں اور ان میں سے کسی نے بھی وہ بات ذکر نہیں کی جو حماد بن زید نے ہشام سے بیان کی ہے کہ آپ نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی پھر تکبیر کہی اور سجدہ کیا۔ اسی طرح حماد بن سلمہ اور ابوبکر بن عیاش بھی ہشام سے یہ روایت ذکر کرتے ہیں تو انہوں نے بھی حماد بن زید والی یہ بات ذکر نہیں کی کہ آپ نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی پھر تکبیر کہی۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1011]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1008)، (تحفة الأشراف: 14415،14469) (شاذ)» (ہشام بن حسان نے متعدد لوگوں کے برخلاف روایت کی ہے)
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (482)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون عبد الله بن عون المزني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥يحيى بن عتيق الطفاوي يحيى بن عتيق الطفاوي ← عبد الله بن عون المزني | ثقة | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← يحيى بن عتيق الطفاوي | ثقة حافظ | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← هشام بن حسان الأزدي | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب سليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة إمام حافظ | |
👤←👥علي بن نصر الصغير، أبو الحسن علي بن نصر الصغير ← سليمان بن حرب الواشحي | ثقة حافظ |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1011 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1011
1011۔ اردو حاشیہ:
اگر سلام کے بعد سجدہ سہو کرے تو سجدے میں جانے کے لئے ایک ہی تکبیر کافی ہے۔ پہلے تکبیر تحریمہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس روایت میں پہلی تکبیر (تحریمہ) کا ذکر شاذ ہے۔
اگر سلام کے بعد سجدہ سہو کرے تو سجدے میں جانے کے لئے ایک ہی تکبیر کافی ہے۔ پہلے تکبیر تحریمہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس روایت میں پہلی تکبیر (تحریمہ) کا ذکر شاذ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1011]
Sunan Abi Dawud Hadith 1011 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي