سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
199. باب إذا شك في الثنتين والثلاث من قال يلقي الشك
باب: جب دو یا تین رکعت میں شک ہو جائے تو شک کو دور کرے (اور کم کو اختیار کرے) اس کے قائلین کی دلیل کا ذکر۔
حدیث نمبر: 1025
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَمَّى سَجْدَتَيِ السَّهْوِ الْمُرْغِمَتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کا نام «مرغمتين» (شیطان کو ذلیل و خوار کرنے والی دو چیزیں) رکھا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1025]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6144) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد من حديث السابق (1024)
وللحديث شواھد من حديث السابق (1024)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1025
| سمى سجدتي السهو المرغمتين |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1025 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1025
1025۔ اردو حاشیہ:
یعنی شیطان نے تو نماز ی کو بھلوانا چاہا، مگر اس نے مذید سجدے کر کے بھول چوک کی تلافی کر لی اور اللہ کے ہاں اور زیادہ قریب ہو گیا اس میں شیطان کی رسوائی ہے۔
یعنی شیطان نے تو نماز ی کو بھلوانا چاہا، مگر اس نے مذید سجدے کر کے بھول چوک کی تلافی کر لی اور اللہ کے ہاں اور زیادہ قریب ہو گیا اس میں شیطان کی رسوائی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1025]
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي