سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب مَنْ قَالَ يُصَلِّي بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً ثُمَّ يُسَلِّمُ
باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ہر جماعت کو ایک ایک رکعت پڑھائے پھر سلام پھیر دے، پھر جو لوگ امام کے پیچھے ہیں وہ کھڑے ہوں اور دوسری رکعت ادا کریں پھر دوسرے گروہ کے لوگ پہلے کی جگہ آ کر دوسری رکعت ادا کریں۔
حدیث نمبر: 1244
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَقَامُوا صَفَّيْنِ صَفٌّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَفٌّ مُسْتَقْبِلَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُونَ فَقَامُوا مَقَامَهُمْ وَاسْتَقْبَلَ هَؤُلَاءِ الْعَدُوَّ، فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَ هَؤُلَاءِ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمُوا، ثُمَّ ذَهَبُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ مُسْتَقْبِلِي الْعَدُوِّ وَرَجَعَ أُولَئِكَ إِلَى مَقَامِهِمْ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمُوا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی تو ایک صف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اور دوسری صف دشمن کے مقابل کھڑی ہوئی، آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر دوسری جماعت آئی اور ان کی جگہ کھڑی ہوئی اور یہ جماعت دشمن کے سامنے چلی گئی، اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر یہ جماعت کھڑی ہوئی، اس نے دوسری رکعت ادا کر کے سلام پھیرا اور جا کر ان کی جگہ کھڑی ہو گئی، جو دشمن کے سامنے تھے، اب وہ لوگ ان کی جگہ آ گئے اور انہوں نے اپنی دوسری رکعت ادا کی پھر سلام پھیرا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1244]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز خوف پڑھائی۔ (مجاہدین نے دو صفیں بنائیں) ایک صف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے سامنے رہی۔ آپ نے ان کو (جو آپ کے پیچھے تھے) ایک رکعت پڑھائی، پھر دوسرے آ گئے اور ان لوگوں کی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور یہ دشمن کے مقابلے میں چلے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور خود سلام پھیر دیا، تو ان لوگوں نے اٹھ کر اپنی ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیرا، پھر چلے گئے اور ان لوگوں کی جگہ پر جا کھڑے ہوئے جو دشمن کے سامنے تھے، پھر دوسرے ان لوگوں کی جگہ پر آ گئے اور اپنی اپنی ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیرا۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1244]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9607)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/375، 376، 409) (ضعیف)» (ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو عبيدة عن أبيه منقطع
وخصيف ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 52
إسناده ضعيف
أبو عبيدة عن أبيه منقطع
وخصيف ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 52
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي، أبو عبيدة أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن مسعود | ثقة | |
👤←👥خصيف بن عبد الرحمن الجزري، أبو عون خصيف بن عبد الرحمن الجزري ← أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي | صدوق سيء الحفظ خلط بآخره ورمي بالإرجاء | |
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن محمد بن الفضيل الضبي ← خصيف بن عبد الرحمن الجزري | صدوق عارف رمي بالتشيع | |
👤←👥عمران بن ميسرة المنقري، أبو الحسن عمران بن ميسرة المنقري ← محمد بن الفضيل الضبي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1244
| صلى بنا رسول الله صلاة الخوف فقاموا صفين صف خلف رسول الله وصف مستقبل العدو فصلى بهم رسول الله ركعة ثم جاء الآخرون فقاموا مقامهم واستقبل هؤلاء العدو فصلى بهم النبي ركعة ثم سلم فقام |
Sunan Abi Dawud Hadith 1244 in Urdu
أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن مسعود