یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب من رخص فيهما إذا كانت الشمس مرتفعة
باب: ان لوگوں کی دلیل جنہوں نے سورج بلند ہو تو عصر کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کی اجازت دی ہے۔
حدیث نمبر: 1274
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ علِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا، سوائے اس کے کہ سورج بلند ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1274]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عصر کے بعد نماز سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ سورج اونچا ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/المواقیت 36 (574)، (تحفة الأشراف: 10310)، وقد أخرجہ: (1/80، 81) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (574 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1284 وسنده صحيح)
أخرجه النسائي (574 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1284 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1274
| نهى عن الصلاة بعد العصر إلا والشمس مرتفعة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1274 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1274
1274۔ اردو حاشیہ:
یہ رخصت ادا سببی نماز کے لیے ہے، عام نوافل مراد نہیں ہیں۔ جیسے کہ اگلی احادیث میں آ رہا ہے۔
یہ رخصت ادا سببی نماز کے لیے ہے، عام نوافل مراد نہیں ہیں۔ جیسے کہ اگلی احادیث میں آ رہا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1274]
Sunan Abi Dawud Hadith 1274 in Urdu
وهب بن الأجدع الهمداني ← علي بن أبي طالب الهاشمي