🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب نسخ قيام الليل والتيسير فيه
باب: تہجد کی فرضیت کی منسوخی اور اس میں آسانی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1304
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ابْنِ شَبُّوَيْهِ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ فِي الْمُزَّمِّلِ: قُمِ اللَّيْلَ إِلا قَلِيلا {2} نِصْفَهُ سورة المزمل آية 1-2 نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الَّتِي فِيهَا عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْءَانِ سورة المزمل آية 20 وَنَاشِئَةُ اللَّيْلِ: أَوَّلُهُ، وَكَانَتْ صَلَاتُهُمْ لِأَوَّلِ اللَّيْلِ، يَقُولُ: هُوَ أَجْدَرُ أَنْ تُحْصُوا مَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْإِنْسَانَ إِذَا نَامَ لَمْ يَدْرِ مَتَى يَسْتَيْقِظُ، وَقَوْلُهُ: وَأَقْوَمُ قِيلا سورة المزمل آية 6 هُوَ أَجْدَرُ أَنْ يَفْقَهَ فِي الْقُرْآنِ، وَقَوْلُهُ: إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلا سورة المزمل آية 7، يَقُولُ: فَرَاغًا طَوِيلًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں سورۃ مزمل کی آیت «قم الليل إلا قليلا، نصفه» ۱؎ رات کو کھڑے رہو مگر تھوڑی رات یعنی آدھی رات کو دوسری آیت «علم أن لن تحصوه فتاب عليكم فاقرءوا ما تيسر من القرآن» ۲؎ اسے معلوم ہے کہ تم اس کو پورا نہ کر سکو گے لہٰذا اس نے تم پر مہربانی کی، لہٰذا اب تم جتنی آسانی سے ممکن ہو (نماز میں) قرآن پڑھا کرو نے منسوخ کر دیا ہے، «ناشئة الليل» کے معنی شروع رات کے ہیں، چنانچہ صحابہ کی نماز شروع رات میں ہوتی تھی، اس لیے کہ رات میں جو قیام اللہ نے تم پر فرض کیا تھا اس کی ادائیگی اس وقت آسان اور مناسب ہے کیونکہ انسان سو جائے تو اسے نہیں معلوم کہ وہ کب جاگے گا اور «أقوم قيلا» سے مراد یہ ہے رات کا وقت قرآن سمجھنے کے لیے بہت اچھا وقت ہے اور اس کے قول «إن لك في النهار سبحا طويلا» ۳؎ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے کام کاج کے واسطے دن کو بہت فرصت ہوتی ہے (لہٰذا رات کا وقت عبادت میں صرف کیا کرو)۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1304]
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ راوی ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سورۃ المزمل کی تفسیر میں فرمایا کہ ﴿قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا * نِصْفَهُ﴾ [سورة المزمل: 2-3] سے اسی سورت کی دوسری آیت ﴿عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ [سورة المزمل: 20] کی رو سے رات کے ابتدائی حصے میں جاگنا مراد ہے۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نماز (قیام اللیل) رات کے ابتدائی حصے میں ہوا کرتی تھی، اور اس وقت میں اللہ کا فرض کردہ قیام اللیل ٹھیک ٹھیک ادا کرنے میں زیادہ آسانی ہے کیونکہ سو جانے کے بعد انسان کو خبر نہیں ہوتی کہ کب بیدار ہوگا (یا نہ بیدار ہو سکے گا)۔ «وَأَقْوَمُ قِيلًا» کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن سمجھنے کے لیے یہ وقت بہت بہتر ہے اور ﴿إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا﴾ [سورة المزمل: 7] سے مراد لمبی فرصت ہے (یعنی دن کے وقت دنیاوی امور میں مشغولیت ہوتی ہے اس لیے رات کا وقت عبادت میں لگاؤ)۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1304]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6254) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سورة المزمل: (۲،۳) ۲؎: سورة المزمل: (۲۰) ۳؎: سورة المزمل: (۷)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥يزيد بن أبي سعيد النحوي، أبو الحسن
Newيزيد بن أبي سعيد النحوي ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة
👤←👥الحسين بن واقد المروزي، أبو علي، أبو عبد الله
Newالحسين بن واقد المروزي ← يزيد بن أبي سعيد النحوي
صدوق حسن الحديث
👤←👥علي بن الحسين القرشي، أبو الحسن، أبو الحسين
Newعلي بن الحسين القرشي ← الحسين بن واقد المروزي
مقبول
👤←👥أحمد بن شبوية الخزاعي، أبو الحسن
Newأحمد بن شبوية الخزاعي ← علي بن الحسين القرشي
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1304 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1304
1304. اردو حاشیہ: فائدہ: آیات کا ترجمہ یہ ہے:
رات میں قیام کیجئے (نماز پڑھیے) مگر تھوڑا سا، یعنی رات کا نصف۔
اسے علم ہے کہ تم اسے نبھا نہیں سکو گے، چنانچہ اس نے تم پر مہربانی کی، پھر قرآن میں سے جتنا آسان ہو تم پڑھو۔
بلاشبہ رات کا اٹھنا (نفس کے لیے) کچلنے میں زیادہ سخت اور دعا ذکر نے لیے مناسب تر ہے۔
یقیناً دن میں آپ کےلیے بہت مصروفیت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1304]

Sunan Abi Dawud Hadith 1304 in Urdu