سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب الصلاة بعد العشاء
باب: عشاء کے بعد کی سنتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1303
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، حَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ بَشِيرٍ الْعِجْلِيُّ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَ: سَأَلْتُهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ قَطُّ فَدَخَلَ عَلَيَّ إِلَّا صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوْ سِتَّ رَكَعَاتٍ، وَلَقَدْ مُطِرْنَا مَرَّةً بِاللَّيْلِ فَطَرَحْنَا لَهُ نِطَعًا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى ثُقْبٍ فِيهِ يَنْبُعُ الْمَاءُ مِنْهُ، وَمَا رَأَيْتُهُ مُتَّقِيًا الْأَرْضَ بِشَيْءٍ مِنْ ثِيَابِهِ قَطُّ".
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء پڑھنے کے بعد جب بھی میرے پاس آئے تو آپ نے چار رکعتیں یا چھ رکعتیں پڑھیں، ایک بار رات کو بارش ہوئی تو ہم نے آپ کے لیے ایک چمڑا بچھا دیا، گویا میں اس میں (اب بھی) وہ سوراخ دیکھ رہی ہوں جس سے پانی نکل کر اوپر آ رہا تھا لیکن میں نے آپ کو مٹی سے اپنے کپڑے بچاتے بالکل نہیں دیکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1303]
شریح بن ہانی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی عشاء کی نماز پڑھ کر میرے ہاں تشریف لاتے تو چار یا چھ رکعت پڑھتے۔ ایک رات بارش ہو گئی ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑا بچھا دیا، پس گویا میں دیکھ رہی ہوں کہ اس کے ایک سوراخ سے پانی نکل رہا تھا۔ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ (اثنائے نماز میں) اپنے کپڑوں کو مٹی سے بچاتے ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 16143)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/58) (ضعیف)» (اس کے راوی مقاتل لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مقاتل بن بشير مستور،وثقه ابن حبان وحده،وقال الذھبي : لا يعرف(ميزان الإعتدال 4/ 171)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54
إسناده ضعيف
مقاتل بن بشير مستور،وثقه ابن حبان وحده،وقال الذھبي : لا يعرف(ميزان الإعتدال 4/ 171)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1303
| ما صلى رسول الله العشاء قط فدخل علي إلا صلى أربع ركعات أو ست ركعات لقد مطرنا مرة بالليل فطرحنا له نطعا فكأني أنظر إلى ثقب فيه ينبع الماء منه وما رأيته متقيا الأرض بشيء من ثيابه قط |
Sunan Abi Dawud Hadith 1303 in Urdu
شريح بن هانئ الحارثي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق