سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب في صلاة الليل
باب: تہجد کی رکعتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1347
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ:" يُصَلِّي الْعِشَاءَ ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ، لَمْ يَذْكُرِ الْأَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: فَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَلَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَإِنَّهُ كَانَ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ فِيهِ فَيُصَلِّي رَكْعَةً يُوتِرُ بِهَا، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ حَتَّى يُوقِظَنَا، ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ".
یزید بن ہارون کہتے ہیں: ہمیں بہز بن حکیم نے خبر دی ہے پھر انہوں نے یہی حدیث اسی سند سے ذکر کی، اس میں ہے: ”آپ عشاء پڑھتے پھر اپنے بستر پر آتے، انہوں نے چار رکعت کا ذکر نہیں کیا“، آگے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: ”پھر آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے اور ان میں قرآت، رکوع اور سجدہ میں برابری کرتے اور ان میں سے کسی میں نہیں بیٹھتے سوائے آٹھویں کے، اس میں بیٹھتے تھے پھر کھڑے ہو جاتے اور ان میں سلام نہیں پھیرتے پھر ایک رکعت پڑھ کر ان کو طاق کر دیتے پھر سلام پھیرتے اس میں اپنی آواز بلند کرتے یہاں تک کہ ہمیں بیدار کر دیتے“، پھر راوی نے اسی مفہوم کو بیان کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16086) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه أحمد (6/236 وسنده حسن)
أخرجه أحمد (6/236 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥بهز بن حكيم القشيري، أبو عبد الملك | ثقة | |
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد يزيد بن هارون الواسطي ← بهز بن حكيم القشيري | ثقة متقن | |
👤←👥هارون بن عبد الله البزاز، أبو موسى هارون بن عبد الله البزاز ← يزيد بن هارون الواسطي | ثقة |
يزيد بن هارون الواسطي ← بهز بن حكيم القشيري