🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب في صلاة الليل
باب: تہجد کی رکعتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1351
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ الْوِتْرِ يَقْرَأُ فِيهِمَا، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذينِ الْحَدِيثَيْنِ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو مِثْلَهُ، قَالَ فِيهِ: قَالَ عَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ: يَا أُمَّتَاهُ، كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعتیں وتر کی پڑھتے، پھر سات رکعتیں پڑھنے لگے، اور وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے۔ ان میں قرآت کرتے، جب رکوع کرنا ہوتا تو کھڑے ہو جاتے، پھر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ دونوں حدیثیں خالد بن عبداللہ واسطی نے محمد بن عمرو سے اسی کے مثل روایت کی ہیں، اس میں ہے: کہ علقمہ بن وقاص نے کہا: اماں جان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں کیسے پڑھتے تھے؟ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1351]
علقمہ بن وقاص سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) نو رکعت وتر پڑھا کرتے تھے، پھر سات رکعت (وتر) پڑھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتروں کے بعد بیٹھ کر دو رکعت پڑھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں قراءت بھی کیا کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو جاتے اور رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: خالد بن عبداللہ واسطی نے یہ دونوں حدیثیں (یعنی حدیث ابی سلمہ اور علقمہ) محمد بن عمرو سے اسی کے مثل روایت کی ہیں۔ ان میں ہے کہ علقمہ بن وقاص نے کہا: اے اماں جان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں کیسے پڑھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے اسی کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1411)، وقدأخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 16 (738) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (731)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥علقمة بن وقاص العتواري، أبو يحيى
Newعلقمة بن وقاص العتواري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن إبراهيم القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إبراهيم القرشي ← علقمة بن وقاص العتواري
ثقة
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو الليثي ← محمد بن إبراهيم القرشي
صدوق له أوهام
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← محمد بن عمرو الليثي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
Sunan Abi Dawud Hadith 1351 in Urdu